کیا سعید غنی سے بھی استعفے کا مطالبہ کریں؟ نبیل گبول
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
نبیل گبول—فائل فوٹو
پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی نبیل گبول نے لیاری کے علاقے بغدادی میں عمارت گرنے کے واقعے کے ذمے داروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں نبیل گبول نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) بدعنوان ادارہ ہے، ڈی جی ایس بی سی اے میرا فون تک نہیں اٹھاتے۔
کراچی کے علاقے لیاری میں گرنے والی عمارت میں ریسکیو آپریشن مکمل ہو گیا، جس کے بعد مشینری روانہ ہو گئی۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا سعید غنی سے بھی استعفے کا مطالبہ کریں؟ کہا جاتا ہے کہ ایس بی سی اے کا ڈی جی ڈان ہے، اس کو کچھ کہیں گے تو اوپر سے فون آ جائے گا۔
پی پی رہنما نے کہا کہ یہ صرف معطل نہیں گرفتار ہونے چاہئیں، کل کے اجلاس میں آپ کو رزلٹ ملے گا، دو چار افسران کو میں نے ٹرانسفر بھی کرایا، وہ بلڈر سے پیسے لیتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ جب سے ایم این اے بنا ہوں کئی عمارتیں گروائیں، مگر 3 ماہ بعد یہ عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو جاتی ہیں، لوگ غیر قانونی تعمیرات کی طرف کیوں جاتے ہیں؟ لوگوں کو شعور دینا ہے۔
نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ 122 عمارتوں کے خلاف کیسے آپریشن کریں گے، لوگوں کو گھروں سے نکالنا مذاق نہیں ہے، بہت بڑا آپریشن ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ ویسا ہی آپریشن ہے جیسا کراچی میں گینگ وار کے خلاف کیا گیا تھا، تنظیموں میں کریمنلز کے خلاف 3 مہینےکا آپریشن کیا گیا تھا، اسی طرح کا آپریشن کرنا پڑے گا۔
پی پی کے رکنِ قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ کو علاقے کے ایم این اے، ایم پی اے کو اختیار دینا ہو گا، بلڈر مافیا کے خلاف سندھ اسمبلی میں قانون سازی کریں گے، متاثرین کو معاوضہ ملنا چاہیے، ان کی بحالی کے اقدامات کرنا چاہئیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 122 عمارتیں خالی کرا رہے ہیں، لوگ اسکول میں جانے کو تیار نہیں، ہمارے پاس دوسری جگہ نہیں۔
نبیل گبول نے کہا کہ 4 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، 4 مرکزی ملزمان جو مافیا تھے بھاگ گئے ہیں، بھاگنے والے پی پی کے لیڈروں کا سہارا لیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سوالوں کا جواب لینے کے لیے کل اجلاس میں جا رہے ہیں، وزیرِاعلیٰ کے ساتھ کل کے اجلاس کے بعد ڈنڈا اٹھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نبیل گبول نے نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔