میرے آفس میں سب آئیں گے تو کور کمانڈر بھی آئیں گے: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کور کمانڈر پشاور مجھے مبارکباد دینے آئے تھے، میں صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہوں، میرے آفس میں سب آئیں گے تو کور کمانڈر بھی آئیں گے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئینی بحران پوری دنیا دیکھ رہی ہے، ججز کے احکامات ہوا میں اڑائے جا رہے ہیں، ہمارے لیڈر کے کیسز نہیں لگائے جا رہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس نہیں لگایا جا رہا، گزارش ہے وہ کیسز لگائے جائیں، جس دن پاکستان میں انصاف ہوگا ناحق قید میں موجود لوگ باہر ہوں گے۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل عمر احمد بخاری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے پشاور میں ون آن ون ملاقات کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دوحہ مذاکرات پر اسمبلی فلور پر میری تقریر موجود ہے، میں نے اسے خوش آئند کہا تھا، ان مذاکرات سے صوبائی حکومت جو ڈائریکٹ متاثر ہوگی، اسے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو مذاکرات کامیاب بنا سکتے ہیں انہیں کمیٹی میں شامل کرنا چاہیے، چاہتا ہوں کہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور ملک کے وزیر اعظم کی توقیر ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کور کمانڈر آئیں گے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔