دبئی میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی کار سے متعلق اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
دبئی(نیوز ڈیسک)دبئی میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی کار کو متعارف کروانے سے قبل ٹرائل کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔
دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے خود مختار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والی کمپنی Pony.ai کے ساتھ ایمریٹس میں خود سے چلنے والی گاڑیوں کے پائلٹ ٹرائلز شروع کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرائلز اس سال کے آخر میں شروع ہونے والے ہیں جو کہ 2026 میں متعارف کروانے کے لیے مکمل طور پر بغیر ڈرائیور کے کمرشل سروس کی بنیاد رکھی جائے گی۔
یہ تعاون دبئی کی سمارٹ سیلف ڈرائیونگ ٹرانسپورٹ کی حکمت عملی میں ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مقصد 2030 تک شہر کے تمام ٹرپس کے 25% کو خود مختار سفر میں تبدیل کرنا ہے۔
مفاہمت نامے پر باضابطہ طور پر RTA کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے چیئرمین Mattar Al Tayer اور Pony.
آر ٹی اے کی جانب سے دستخط کرنے والے پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی کے سی ای او احمد ہاشم بہروزیان تھے، جب کہ Pony.ai کی نمائندگی اسٹریٹجی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی نائب صدر این شی نے کی۔ تقریب میں دونوں اطراف کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
مزیدپڑھیں:راولپنڈی: دیور، بھاوج نے زہریلی گولیاں کھالیں، مرد جاں بحق، خاتون کی حالت تشویشناک
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔