data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی ،پانی کے بحران ،انفرااسٹرکچر کی تباہی ،سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ سمیت دیگر مسائل کے باوجود، پیپلزپارٹی کی کراچی دشمنی جاری رکھنے ،حکومتی نااہلی ،کرپشن اوربے حسی کی
شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے 2 ماہ میں موٹر سائیکل ودیگر گاڑیوںکے52 ہزار سے زاید چالان کیے جا چکے ہیں،کراچی میں ٹریفک اشارے،زیبرا کراسنگ ،فٹ پاتھ اور دیگر سہولیات ناپید ہوتی جارہی ہیں مگر سارا زور چالان کرنے پر ہے ،آئی جی غلام نبی میمن کا یہ کہنا کہ2ماہ تک چالان جمع نہ کرنے پر جرمانہ ڈبل ،3ماہ تک لائسنس کی منسوخی اور 180دنوں میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکی شہریوں کی تذلیل ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے تمام ضلعی دفاتر اورمرکزی دفتر میں شکایتی ڈیسک قائم کر دی گئی ہیں ، جہاں شہری اپنی شکایات درج کرا سکیں گے ، کراچی ملک کی معیشت چلاتا ہے ،کراچی ایک بار پھر پورے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ثابت ہوا ہے۔ کراچی نے رواں سال 3256ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا جو کہ گزشتہ سال کے نسبت 29فیصد زیادہ ہے اس کے باوجود کراچی کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کیا ہوا ہے ،کراچی کے عوام سے نارواسلوک اور تذلیل بند کی جائے ، سندھ حکومت نے 17سال میں کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے لیے صرف 300 بسیں چلائیںاور وزیر اطلاعات شرجیل میمن ہر کچھ عرصے بعد 50بسیں چلانے کے اعلانات کرتے رہتے ہیں ،کراچی میگا میٹروپولیٹن سٹی ہے اس کوکم از کم ایک ہزار بسیں ،لائٹ ریل اور سرکلر ریلوے جیسے منصوبے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں اور عام شہریوں کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کے خلاف آواز اُٹھائے گی ۔کراچی میں 4.

5ملین موٹر سائیکل استعمال ہوتی ہیں ،نوجوان ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں لیکن ناانصافی اورزیادتی کی صورت میں جماعت اسلامی سے رابطہ کریں ۔انہوں نے کہاکہK-4منصوبہ کراچی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس اہم منصوبے کے لیے وفاق نے صرف 3.2 ارب روپے رکھے جبکہ اس کی اصل ضرورت 40 ارب روپے تھی۔ اگر کے فور منصوبہ جون 2026تک مکمل ہو بھی گیاتو اس کی آگمینٹیشن یعنی لائنوں کی تنصیب جیسے ضروری کام بھی تاحال شروع نہیں کیے گئے جس کے لیے مزید 2 سال درکار ہیں ۔کے فور منصوبے کے لیے سے سندھ حکومت نے بھی کچھ نہیں کیا۔مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم، جو حکومت میں شامل ہیں، سب نے کراچی کے مسائل اور حقوق کے حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔منعم ظفر خان نے کہاکہ یہ امر انتہائی حیران کن ہے کہ سندھ حکومت نے صرف چالان کی مد میں 9.2ارب روپے شہریوں سے وصول کیے جبکہ پورے پاکستان کے جاگیرداروں اوروڈیروں نے قومی خزانے میں صرف 4ارب روپے ٹیکس جمع کرائے ہیں،انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کو واٹر اینڈ سیوریج کی مد میں 1.6 بلین ڈالر دیے گئے، لیکن کوئی بڑا کام نظر نہیں آیا۔واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن پر سندھ حکومت کا مکمل قبضہ ہے۔ قابض مئیر نے نالوں کی صفائی کرائی اور نہ ہی اپنے ٹاؤن چیئرمینز پر اعتماد کیا۔ واٹر بورڈ ٹاؤن کو جواب دہ نہیں بلکہ مئیر کے ماتحت ہے، جہاں کرپشن کی جڑیں نیچے سے بلاول ہاؤس تک جاتی ہیں۔پریس کانفرنس میں پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی، انچارج میڈیا سیل صہیب احمد، ٹاؤن چیئرمین نارتھ ناظم آباد عاطف علی خان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کراچی کے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ

 ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود