روس نے افغان طالبان کی حکومت باضابطہ طور پر تسلیم کرلی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کابل میں تعینات روسی سفیر نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی داستاویزات طالبان وزیر خارجہ کے حوالے کردیں۔
روسی سفیر ڈاکٹر ڈمیٹری ژیرنوف نے طالبان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ایک ملاقات میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی دستاویزات پیش کردیں۔
یہ بھی پڑھیے: روس نے طالبان پر سے پابندی اٹھالی، اصل وجہ کیا ہے؟
اس موقع پر طالبان وزیر خارجہ نے روس کی طرف سے اس قدم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دوسرے ممالک کے لیے اچھی مثال قائم کرے گی۔
The Ambassador of the Russian Federation, Mr.
During the meeting, the Ambassador of Russian Federation officially conveyed his government’s decision to recognize the Islamic Emirate of Afghanistan, pic.twitter.com/wCbJKpZYwm
— Ministry of Foreign Affairs – Afghanistan (@MoFA_Afg) July 3, 2025
انہوں نے روس کے اس فیصلے کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔
واضح رہے کہ روس نے اپریل میں طالبان پر 2 دہائیوں سےعائد پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ جون میں کابل میں اپنا سفیر تعینات کردیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان روس طالبان حکومت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان طالبان حکومت
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔