بھارت پاکستان کیخلاف پہلگام حملے کے الزام پر’ کواڈ‘ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ گروپ نے بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس دہشت گرد حملے کے ذمہ داروں کو بلاتاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بھارت پاکستان کیخلاف پہلگام حملے کے الزام پر ’’ کواڈ‘‘ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کواڈ وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان ، دہشتگردی کی مذمت ، پاکستان کا نام لینے سے گریز ۔22 اپریل کو کیے گئے اس حملے کے بعد دو ایٹمی طاقتیں بھارت اور پاکستان ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں آگئے تھے، بھارت نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کواڈ وزرائے خارجہ کا ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کا نام لیے بغیر دہشت گردی کی مذمت کی گئی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کواڈ دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی تمام اقسام اور تمام صورتوں بشمول سرحد پار دہشت گردی کی بلاامتیاز مذمت کرتا ہے‘۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حملے کے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔