چیٹ جی پی ٹی نے خاتون کو ’ساڑھے 65 لاکھ‘ کے قرض سے چھٹکارہ دلوا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) دنیا کے مختلف شعبوں میں انقلاب لا رہی ہے، وہیں امریکہ کی ایک 35 سالہ خاتون جینیفر ایلن نے اسے اپنی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنا لیا۔ جینیفر، جو ڈیلاویئر میں رہائش پذیر ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ اور کانٹینٹ کریئیٹر ہیں، برسوں سے مالی مشکلات کا شکار تھیں۔ لیکن ایک دن انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے رجوع کیا، اور یہی قدم اُن کی مالی نجات کا آغاز بن گیا۔
مجھے ہمیشہ پیسے کے معاملے میں مشکلات کا سامنا رہا
جینیفر نے نیوزویک کو بتایا کہ اگرچہ وہ مستقل آمدنی رکھتی تھیں، لیکن انہیں مالیاتی شعور یا فنانشل لٹریسی کبھی نہیں سکھایا گیا۔ بجٹ بنانا اُن کے لیے ایک اجنبی عمل تھا، اور وہ یہ سمجھتی تھیں کہ بس محنت سے کام کرتی رہیں گی تو سب کچھ سنبھل جائے گا،مگر زندگی ہمیشہ ایسی نہیں چلتی۔
اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد جینیفر جذباتی طور پر ٹوٹ گئیں، اور اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کریڈٹ کارڈز کا سہارا لینا شروع کیا۔ وہ کوئی شاہانہ زندگی نہیں گزار رہی تھیں، صرف ’زندہ رہنے‘ کی جدوجہد میں تھیں۔ مگر قرض کا بوجھ آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔
ایک دن جینیفر نے انٹرنیٹ پر 30 دن کے ذاتی چیلنجز کے بارے میں پڑھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کو بطور ’فنانشل کوچ‘ استعمال کریں گی۔ انہوں نے خود سے عہد کیا کہ اگلے 30 دنوں تک وہ ہر روز چیٹ جی پی ٹی سے مالی مشورہ لیں گی، چاہے وہ بچت کے مشورے ہوں یا آمدنی بڑھانے کے طریقے۔
ہر دن چیٹ جی پی ٹی اُنہیں ایک چھوٹا سا ٹاسک دیتا، مثلاً کسی غیر ضروری سبسکرپشن کو کینسل کرنا، فیس بک مارکیٹ پلیس پر استعمال شدہ اشیاء فروخت کرنا، کہیں بھولے بسرے فنڈز کی تلاش کرنا، یا بیگوں اور صوفوں میں گرے ہوئے سکے جمع کرنا۔ ان تمام مشقوں نے انہیں روزانہ اوسطاً 100 ڈالر 28 ہزار پاکستانی روپے سے زائد کمانے میں مدد دی۔
سب سے بڑا سرپرائز، 28.
4 لاکھ سے زیادہ بھولے بسرے فنڈز
اس مہم کے دوران جینیفر کو ایک غیر متوقع کامیابی ملی۔ چیٹ جی پی ٹی کی تجویز پر انہوں نے ’ان کلیمڈ فنڈ‘ کے سرکاری ذرائع پر تحقیق کی، اور انہیں 10 ہزار ڈالر یعنی 28.4 لاکھ روپے سے زائد کی ایسی رقم ملی جو یا تو انہوں نے بھلا دی تھی یا کبھی کلیم ہی نہیں کی تھی۔
ایک ماہ میں 34 لاکھ روپے سے زیادہ قرض کی ادائیگی
جون میں، جینیفر نے اپنے ’ٹک ٹاک‘ اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے 30 دن کا چیلنج مکمل کر لیا ہے، اور اس ایک ماہ میں وہ 12078 ڈالر (34 لاکھ پاکستانی روپے) کا قرض ادا کر چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ ماہانہ 600 ڈالریعنی 1 لاکھ 70 ہزار روپے کی بچت کرنے کے قابل بھی ہو گئی ہیں۔
جینیفر کے مطابق، یہ سب کسی ’بڑے مالیاتی جادو‘ کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ روزانہ اس چیلنج کا سامنا کرنے، اپنی مالی صورتحال کو دیکھنے اور اس پر گفتگو کرنے کا عمل تھا جس نے انہیں تبدیل کیا۔
’میں نے ڈرنا چھوڑ دیا۔ میں نے ایک ڈیٹ ٹریکر بنایا، میں نے اپنی مالی کہانی دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا شروع کی۔ اور پہلی بار مجھے شرمندگی کے بجائے طاقتور محسوس ہوا، جیسے میں سب کچھ فتح کر سکتی ہوں۔‘
ان لوگوں کے لیے جو قرض میں پھنسے ہوئے ہیں، جینیفر کا مشورہ، ’یہ انتظار مت کریں کہ کب آپ کو سب کچھ معلوم ہو گا یا آپ تیار ہوں گے۔ بس مان لیں کہ مسئلہ ہے، اور اس کا سامنا کریں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر آپ اس عمل کو دلچسپ بنا لیں تو یہ اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی ایک ایسا ساتھی تھا جو بغیر کسی تنقید کے انہیں روزانہ ایک نیا قدم اٹھانے کا مشورہ دیتا، اور ٹک ٹاک پر اُن کی کمیونٹی اُنہیں ہر دن اگلے ٹاسک کے انتظار میں متحرک رکھتی۔
اے آئی سے دوستی نے زندگی بدل دی
اگر ہم ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کریں، تو یہ ہمارے سب سے بڑے چیلنجز کو آسان بنا سکتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی جیسا ٹول صرف ایک روبوٹک چیٹ بوٹ نہیں، بلکہ صحیح سمت میں رہنمائی کرنے والا ایک ذاتی کوچ بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم خود عمل کا ارادہ کرلیں۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔