Islam Times:
2026-06-02@22:52:00 GMT

مودی سرکار کی خارجہ پالیسی نعرے بازی تک محدود

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

مودی سرکار کی خارجہ پالیسی نعرے بازی تک محدود

کانگریس رہنما پرمود تیواری نے مودی کی ناکام سفارتی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران ایک بھی ملک ایسا نہیں تھا جس نے بھارت کی کھل کر حمایت کی ہو۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں مودی سرکار کی خارجہ پالیسی محض نعرے بازی تک محدود ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں نام نہاد جمہوری ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ آپریشن سندور کے دوران کسی بھی ملک کی جانب سے بھارت کی کھل کر حمایت نہیں  کی گئی ، اس کے برعکس پاکستان کے سفارتی تعلقات کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل  ہوئی ہے۔ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی اس وقت شدید تنقید کا شکار ہے اور بھارت دن بدن تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ کانگریس رہنما پرمود تیواری نے مودی کی ناکام سفارتی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران ایک بھی ملک ایسا نہیں تھا جس نے بھارت کی کھل کر حمایت کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ترکی جیسے طاقتور ممالک نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ مودی کا ’’اب کی بار، ٹرمپ سرکار‘‘ کا نعرہ بھی ناکام رہا جب ٹرمپ نے آپریشن سندور کے دوران بھارت سے دوری اختیار کی۔ پرمود تیواری نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے ثالثی کا دعویٰ کر کے پاکستان کو برابر کا فریق تسلیم کیا۔ مودی صرف غیر ملکی دوروں میں مصروف رہے، لیکن ان دوروں سے بھارت کو کوئی ٹھوس سفارتی فائدہ نہیں پہنچا۔ آپریشن سندور کے دوران عالمی طاقتوں کی خاموشی نے واضح کر دیا ہے کہ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی ناکام ہو رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مودی سرکار کی خارجہ پالیسی آپریشن سندور کے دوران

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی