سفارتی سطح پر بڑی کامیابیاں ‘ وزیراعظم ‘ فیلڈ مارشل کا اہم کردار : عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پیر کے روز صنوبر انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام بدلتی دنیا میں پاکستان کا کردار کے عنوان سے مباحثہ سے خطاب میں کہا ہے کہ بدلتی دنیا میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی فعال ہے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دیں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف 90 ہزار انسانی جانوں کی قربانی دی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان کا بیانیہ دنیا کے سامنے رکھنے میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل کا اہم کردار ہے۔ بیانیہ اور سفارتی محاذوں پر ہم نے فتح حاصل کی۔ پاکستان کے بیانیہ کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی۔ سفارتی سطح پر ہمیں بڑی کامیابیاں ملیں۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ بھارت کے خلاف جنگ کے دوران نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر اہم کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کا جھوٹ بے نقاب کیا گیا۔ عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کیا۔ سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو فروغ مل رہا ہے۔ بھارت کے خلاف عظیم کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ دوست ملکوں سے دوطرفہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔ امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی۔ حکومت نے معیشت کو بحران سے ترقی اور خارجہ تعلقات کو تنہائی سے عالمی اہمیت کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف درست اقدامات اٹھائے بلکہ ایسی پالیسی اپنائی جس کے تحت اسے سفارتی میدان میں متعدد کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ یہ کامیابیاں سول و فوجی قیادت بشمول وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان موجود مثالی ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں۔ پی ٹی آئی کے دور میں دوست ممالک ناراض تھے لیکن موجودہ دور حکومت میں پاکستان نے نہایت مختصر عرصے میں خارجہ پالیسی کے تناظر میں نمایاں اہمیت دوبارہ حاصل کرلی۔ مئی کی جنگ کے بعد کی صورتحال نے ہمارے قومی تشخص کو ایک نئی سمت دی ہے۔ پہلگام واقعہ کے بعد شہباز شریف نے اس سانحہ کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔ ہم دہشت گردوں اور باقی دنیا کے درمیان ایک ڈھال کا کردار ادا کر رہے ہیں اور جب کوئی پاکستانی اپنی جان قربان کرتا ہے تو یہ صرف مادر وطن کے لئے نہیں بلکہ دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے بھی ہے۔ اتنی قربانیاں رائیگاں جانا ممکن نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ہماری کہانی سنے اور اسے درست انداز میں سمجھے۔ جنگ سے قبل تحقیقات کی پیشکش کر کے ہم نے یہ پیغام دیا کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں اور ہمارا موقف دنیا نے تسلیم کیا۔ مسلسل سفارتی رابطوں نے پاکستان کو دنیا کے سامنے اپنا موقف موثر طریقے سے پیش کرنے میں مدد دی۔ دنیا بدل رہی تھی اور پاکستان بھی بدلا۔ ہم نے ایک فعال سفارتی تبدیلی دیکھی کیونکہ پاکستان نے سفارت کاری کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔ ہمارے پاس سچ کی طاقت تھی، اسی بنیاد پر جب پاکستان نے اپنی کہانی درست انداز میں پیش کی تو دنیا نے اسے سنا اور اس کا اثر ہوا۔ پاکستان ہر محاذ پر موجود تھا اور درست معلومات فراہم کرنے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ قائم مثالی ہم آہنگی قابل تعریف تھی جس کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔ اللہ کے فضل سے ہم نے سات بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔ قوم کے طور پر جو اتحاد ہم نے دکھایا اسے تسلیم کرنا ہوگا۔ پاکستانی عوام کی حوصلہ مندی اور یکجہتی نے اختلافات کو پیچھے ڈال دیا اور میں ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج کوئی سیاسی پوائنٹ سکور کرنے کا موقع نہیں ہے۔ معیشت کو بحران سے ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے اور خارجہ تعلقات کو تنہائی سے عالمی اہمیت تک پہنچایا۔ یہ دو نعرے حکومت کی کارکردگی کو بخوبی بیان کرتے ہیں کہ الحمد للہ ہم نے معیشت اور خارجہ پالیسی دونوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے۔ ہر بڑے واقعہ کی تحقیقات میں کسی نہ کسی مقام پر افغان شہری کا تعلق ضرور سامنے آتا ہے اور اس صورتحال سے پاکستان نمٹ رہا ہے۔ قبل ازیں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایف نائن پارک اسلام آباد میں اڑان پاکستان فیملی فیسٹیول کا کامیابی سے انعقاد ہوا۔ فیسٹیول کی کامیابی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی رہنمائی اور حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار کامیابی نے پوری قوم کے حوصلے بلند کئے اور اسی جذبے نے فیسٹیول کے ماحول کو مزید ولولہ انگیز بنا دیا۔ فیسٹیول کے کامیابی سے انعقاد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھرپور تعاون رہا جبکہ وزارت داخلہ نے فول پروف سکیورٹی انتظامات کئے۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ایف نائن پارک کا دورہ کیا اور مختلف انتظامات کا جائزہ لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔