حالیہ پہلگام واقعے پر کواڈ ممالک یعنی بھارت، امریکا، جاپان اور آسٹریلیا نے واشنگٹن میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم

اس مشترکہ بیانیے میں پاکستان کا نام شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جو عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سی این بی سی کے مطابق، کواڈ ممالک نے بھارت کی طرف سے پاکستان پر عائد کردہ الزامات کو عالمی برادری نے ایک بار پھر مسترد کیا ہے۔ یہ مشترکہ بیان بھارتی بیانیے کی عالمی سطح پر ناکامی اور کواڈ تنظیم میں بھی پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوششوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں: ’یہ پہلگام واقعے کا جشن منا رہے ہیں‘، ششی تھرور کے گانا گانے پر بھارتی صارفین کی تنقید

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھارت کے یکطرفہ الزامات کے بجائے قانونی شواہد اور بین الاقوامی ضوابط کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے عالمی برادری کی غیر جانبداری کا اظہار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، پاکستان کی متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کی بدولت اسے عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر ناکامی کا شکار نظر آتی ہے۔ مودی حکومت کی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں خود بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنی ہیں۔

پہلگام حملے پر عالمی ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اب خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا بھارت پاکستان پہلگام جاپان کواڈ ممالک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بھارت پاکستان پہلگام جاپان کواڈ ممالک

پڑھیں:

اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.

FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟