حکومت کی کرپٹو مائننگ کیلئے سستی بجلی کی تجویز آئی ایم ایف نے مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جولائی 2025ء ) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کرپٹو مائننگ کیلئے حکومت کی سستی بجلی کی تجویز آئی ایم ایف نے مسترد کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا جہاں سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ ’توانائی کے شعبے کے تمام بڑے اقدامات کو آئی ایم ایف سے کلیئر کیا جانا ہوتا ہے، اگرچہ پاکستان کے پاس اضافی بجلی ہے، خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں ایسا ہوتا ہے، تاہم آئی ایم ایف کسی بھی قیمت کے تعین کے طریقہ کار کے بارے میں محتاط ہے جو مارکیٹ کو بگاڑ سکتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’نومبر 2024ء میں شیئر کیے گئے ایک منصوبے میں پاور ڈویژن نے توانائی سے بھرپور صنعتوں جیسے کاپر اور ایلومینیم پگھلانے، ڈیٹا سینٹرز اور کرپٹو مائننگ کے لیے یہ ہدفی معمولی لاگت پر مبنی پیکیج تجویز دی کہ اس سے بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوگا اور اضافی چارجز کی صلاحیت میں کمی آئے گی لیکن پھر بھی آئی ایم ایف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ سیکٹر کے لیے مخصوص ٹیکس چھوٹ سے مشابہت رکھتا ہے جس نے تاریخی طور پر عدم توازن پیدا کیا ہے‘۔(جاری ہے)
ڈاکٹر عرفان کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک آئی ایم ایف نے اس پر اتفاق نہیں کیا ہے، عالمی مالیاتی ادارہ حکومت کی 3 مرتبہ کوشش کے باوجود بٹ کوائن مائننگ کیلئے سستی بجلی کی فراہمی پر راضی نہ ہوا، تاحال اس منصوبے کا عالمی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت دارے جائزہ لے رہے ہیں، حکومت نے اس تجویز کو واپس نہیں لیا ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف عمل ہے‘۔ اجلاس میں سینیٹر شبلی فراز نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بینکوں کو قرضوں کی پیشکش کے لیے بندوق کی نوک پر مجبور کیا گیا اگر میں بینکر ہوتا تو میں انکار کر دیتا‘، جس پر سیکرٹری پاور نے تردید کی اور کہا کہ ’کوئی نئی لیویز نہیں لگائی گئی، رقم کی وصولی کے لیے 3.23 روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ کا موجودہ ڈیبٹ سروسنگ سرچارج (ڈی ایس ایس) اگلے پانچ سے چھ سال تک جاری رہے گا‘۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آئی ایم ایف نے بجلی کی کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :