پڈعیدن: ٹریفک حادثے میں چار خواتین سمیت دس افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پڈعیدن(نمائندہ جسارت) نوشہروفیروز تا تھاروشاہ لنک روڈ پر مسافر وین اور کار میں تصادم چار خواتین سمیت دس افراد شدید زخمی،دو تشویشناک حالت میں نوابشاہ منتقل،وین اور کار تباہ۔تفصیلات کے مطابق نوشہروفیروز تا تھاروشاہ لنک روڈ پر تیز رفتار مسافروین اور کار میں خوفناک تصادم ہو گیا جس کے نتیجہ میں دس افراد شدید زخمی ہو گئے واقع کی اطلاع پر اہلے علااقہ اور پولیس نے پہنچ کر زخمیوں کو نوشہروفیروز اور تھاروشاہ اسپتالوں میں منتقل کردیا زخمیوں میں یوسف سیال،مختیار وگن، بچل عبدالعلیم،عاطف، سعید،صفیہ، رضیہ کنیز،فاطمہ سمیت دیگر شامل ہیں دو شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد نوابشاہ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے پولیس نے دونوں گاڑیوں کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔