نوجوان پروفیسر کا لیکچر کے دوران اچانک انتقال، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جولائی 2025ء ) لاہور میں نوجوان پروفیسر کا لیکچر کے دوران اچانک انتقال ہوگیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جساکتا ہے کہ بظاہر ہشاش بشاش نظر آنے والے ایک نوجوان پروفیسر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں کہ اس دوران اچانک وہ نیچے فرش پر سجدے کی حالت میں بیٹھ جاتے ہیں، یہ منظر دیکھ کر ہال میں موجود افراد تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور فوری ایک شخص آگے بڑھ کر جب نوجوان پروفیسر کو سہارا دینے کی کوشش کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے نوجوان پروفیسر کا انتقال ہوچکا ہے۔
بعد ازاں مرحوم پروفیسر کی شناخت نیاز احمد کے نام سے ہوئی اور پتا چلا کہ وہ لاہور ٹیچرز ٹریننگ پروگرام میں لیکچر دے رہے تھے کہ اس دوران اچانک انتقال کرگئے، ان کا تعلق شاہجمال مظفر گڑھ سے ہے، مرحوم پروفیسر نیاز احمد کی نماز جنازہ آبائی علاقے میں ادا کی جائے گی۔(جاری ہے)
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
کُلُّ نَفْس ذائِقَةُ الْمَوْتِ
آج مظفر گڑھ کا ایک ستارہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۔ مرنے میں صرف 4سیکنڈ لگتے ہیں۔ نوجوان پروفیسر نیاز احمد لاہور ٹیچر ٹرینگ میں لیکچر کے دوران اچانک فوت ہوگیا، نماز جنازہ آبائی علاقے حامد سلطان ہوگا۔ pic.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نوجوان پروفیسر دوران اچانک ہارٹ اٹیک
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں