تیز رفتار واٹر ٹینکر نےموٹرسائیکل سوار کو کچل دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: شہر قائد میں تیز رفتار ٹینکرز کی ٹکر سے شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ آج بھی کراچی میں ایک نوجوان ٹینکر سے کچلے جانے کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
پولیس کے مطابق سائٹ ایریامنگھوپیرروڈ پر تیزرفتارواٹرٹینکرنے ایک اورموٹرسائیکل سوارکوکچل دیا، جس کے نتیجے میں نوجوان موقع پرجاں بحق ہوگیا جب کہ پولیس نے واٹرٹینکرکو قبضے میں لے کر اس کے ڈرائیورکوگرفتارکرلیا۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا آغاز
منگل کی صبح سائٹ اے تھانے کے علاقے سائٹ ایریا منگھو پیر روڈ پر پیش آنے والے حادثے میں جاں بحق نوجوان کی لاش قانونی کارروائی کےلیے ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی، جہاں اس کی شناخت 21 سالہ امیر معاویہ ولد محمد درویش خان کے نام سے کی گئی۔
متوفی نوجوان قصبہ کالونی کا رہائشی اور بنوری ٹاؤن مدرسے میں زیر تعلیم تھا۔ پولیس نے حادثے کے بعدواٹرٹینکرکوقبضے میں لے کر اس کے ڈرائیور سرفراز ولد شہبازکوگرفتارکرکےتھانےمنتقل کردیا۔ گرفتارواٹرٹینکر ڈرائیورکے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔
اداکارہ ہانیہ عامر کی بات پکی ہوگئی؟ ویڈیو کےسوشل میڈیا پر چرچے
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔