ووٹر لسٹ سے متلعق الیکشن کمیشن آف انڈیا کا عمل صحیح نہیں ہے۔ اسدالدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خصوصی نظرثانی مہم کیوجہ سے لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جاسکتے ہیں، جس سے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست بہار اسمبلی الیکشن سے پہلے الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹ کو اپڈیٹ کرنے کے فیصلے کو اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران غلط اور من مانی پر مبنی ٹھہرا رہے ہیں۔ اس معاملے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرنے پہنچے تھے۔ میٹنگ کے بعد اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ جو عمل کیا جا رہا ہے، اس کے لئے قومی جماعتوں (نیشنل پارٹیوں) سے تبادلہ خیال نہیں کیا گیا، بی ایل او کی ٹریننگ نہیں ہوئی کیونکہ ان کے پاس ہینڈ بک نہیں ہے، اس وجہ سے الیکشن کمیشن جو عمل کررہا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کا سوال تھا کہ 2024ء کی ووٹر لسٹ کوہی بنیاد کیوں نہیں مانا جا رہا ہے، جن رائے دہندگان نے 2024ء میں ووٹ دیا، آخر 2025ء میں ان سے ان کی پہچان کیوں پوچھی جا رہی ہے۔
اسد الدین اویسی نے سوال کیا کہ 2024ء کی ووٹر لسٹ کو الیکشن کمیشن بنیاد کیوں نہیں بنا رہا ہے، جن رائے دہندگان نے 2024ء میں ووٹ دیا آخر 2025ء میں ان سے ان کی پہچان کیوں پوچھی جا رہی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی سماعت پر ہم اپنی پارٹی میں بیٹھ کر بات کریں گے اور آگے فیصلہ کریں گے، لیکن ہمارا اعتراض یہی ہے کہ اتنا کم وقت کیوں دیا گیا۔ اس کے علاوہ مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اختر الایمان نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگ ایسے ہیں، جو کہ مائیگرنٹ لیبر ہے، جن کے پاس میں اپنے دستاویز نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن سے متعلق موضوع پر سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا ہے۔ 10 جولائی 2025ء کو اس معاملے پر سماعت ہونی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اب تک اس معاملے میں 5 عرضیاں داخل ہوچکی ہیں۔ ملک کا مشہور انتخابی اصلاحات کا ادارہ (اے ڈی آر) نے اس پر عرضی داخل کی ہے۔ اس کے علاوہ یوگیندر یادو، مہوا موئترا، منوج جھا اور مجاہد عالم شامل ہے۔ ان تمام درخواستوں میں الیکشن کمیشن کے عمل کو من مانی اور منصفانہ انتخابات کو متاثر کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خصوصی نظرثانی مہم کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جاسکتے ہیں، جس سے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ نہیں ہے
پڑھیں:
ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے ڈیٹا بیس کے ہیک ہونے اور ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دےدیا . ترجمان ایچ ای سی کے مطابق سائبر سیکیورٹی آپریشن سینٹر نے سوشل میڈیا پر وائرل دعوؤں کی فوری تحقیقات مکمل کر لی ہیں، جن سے ثابت ہوا ہے کہ آن لائن گردش کرنے والا مبینہ ڈیٹا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن یا ویریفکیشن سسٹم کا حصہ نہیں ہے۔ ترجمان ایچ ای سی نے ایچ ای سی ڈیٹا بیس ہیک ہونے کی سوشل میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مزیدکہاکہ سوشل میڈیا پر وائرل ریکارڈز کا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈیٹابیس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے عوام سے سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق جھوٹی افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ایچ ای سی کا ڈیٹابیس اور ڈگری ویریفکیشن سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے۔