جیو فلمز ”دیمک“ نے شنگھائی فلم فیسٹیول کا ایوارڈ جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
پاکستانی سینما کیلئے ایک اور تاریخی لمحہ! جیو فلمز کی سنسنی خیز اور کامیاب ہارر فلم ”دیمک“ نے بین الاقوامی سطح پر سب کو حیران کر دیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) فلم فیسٹیول 2025 میں نا صرف باضابطہ طور پر شرکت کی، بلکہ بیسٹ ایڈیٹنگ کا ایوارڈ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔
فلم کے ہدایتکار رافع راشدی اور فلم کی مرکزی کردار سونیا حسین نے چین کے شہر چونگچنگ میں ایک پروقار تقریب کے دوران تالیوں کی گونج میں ایوارڈ وصول کیا۔
اس موقع پر فلم کی مرکزی اداکارہ سونیا حسین اور دیگر ٹیم اراکین کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس نے محفل کو مزید یادگار بنا دیا۔
اس فلمی میلے کی میزبانی چین کی فلم ایڈمنسٹریشن اور چونگچنگ میونسپل پیپلز گورنمنٹ نے کی، جس میں فلموں کی نمائش، مقابلے، نمائشیں، اور بین الاقوامی تعاون فورمز شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے دیمک کا پہلے دو دن سات کروڑ کا بزنس، بالی ووڈ کی ٹکر کی فلم قرار فلم"دیمک" نے پاکستانی سنیما کی تاریخ میں نیا سنگِ میل عبور کرلیااس موقع پر رافع راشدی کا کہنا تھا کہ ”یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ فلم ”دیمک“ کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے۔ فلم کو جس طرح سے عالمی سطح پر پذیرائی ملنا پاکستانی سینما کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔
فیسٹیول میں 10 رکن ممالک اور 2 مبصر ممالک نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ جیو فلمز اس سے قبل ”خدا کے لیے، بول، طیفا ان ٹربل، دی لیجنڈ آف مولا جٹ،ڈونکی کنگ اور دی گلاس ورکر“ جیسے شہرہ آفاق شاہکار فلمیں پیش کر چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔