معذرت کرلینے والوں کو ایک بار پھر خط کے ذریعے سول ایوارڈ لینے کی ترغیب
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
جشن آزادی کے موقعے پر حکومت پاکستان کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں سول ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے تھا تاہم چند نام ایسے ہیں کہ جنہوں نے ایوارڈ لینے سے معذرت کرلی تھی جن میں وزیراعظم شہباز شریف اور سینیئر صحافی انصار عباسی شامل ہیں۔۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف، انصار عباسی کے علاوہ اور کس نے ایوارڈ لینے سے معذرت کی؟
یہ ایوارڈ ہر سال صحافت، فنون، ادب، تعلیم، سائنس، سماجی خدمات اور دیگر شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی نمایاں شخصیات کو دیا جاتاہے۔ اس مرتبہ معرکہ حق میں شاندار فتح کے باعث فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت افواج کے سربراہان اور آپریشن میں حصہ لینے والے پائلٹس، وزرا، صحافیوں سمیت دیگر کو بھی ایوارڈز سے نوازا گیا۔
سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق ان کو جس وقت معرکہ حق کے باعث سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا تو انہوں نے کابینہ ڈویژن کو اگاہ کر دیا تھا کہ وہ یہ ایوارڈ وصول نہیں کرنا چاہتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پوری قوم اس ایوارڈ کی مستحق ہے انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ ان کو اعلی سول ایوارڈ دیا جائے۔
لیکن اب ایک مرتبہ پھر انصار عباسی کو ڈپٹی سیکریٹری اعزازات کی جانب سے خط لکھا گیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ آپ کو صدر گئے مملکت نے معرکہ حق 2025 کے دوران گراں قدر خدمات کے اعتراف میں یوم ازادی کے موقعے پر پاکستان سے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا لیکن اپ اس خصوصی تقریب میں شرکت نہ کر سکے تھے اس لیے اپ اپنا یہ اعزاز اب کابینہ ڈویژن سے وصول کر سکتے ہیں۔
انصار عباسی نے کہا کہ میں نے ایوارڈ لینے سے پہلی ہی معذرت کر لی تھی اور گزارش کی تھی کہ میرا نام ایوارڈ کی فہرست سے نکال دیا جائے تاہم اب یہ خط موصول ہونے کے بعد میں پھر سے حیرانگی میں مبتلا ہو گیا ہوں کہ میرا نام فہرست سے نہیں نکالا گیا اور ایک مرتبہ پھر سے ایوارڈ وصول کرنے کے لیے مجھے خط لکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: 23 مارچ کو کن صحافیوں اور کھلاڑیوں کو ایوارڈز ملیں گے؟
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ خط میں مجھ سے میرے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں معلوم نہیں کہ کیا اعزاز کے ساتھ انعامی رقم بھی دی جاتی ہے۔
ذرائع کابینہ ڈویژن کے مطابق یوم آزادی کے موقع پر تقسیم ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے لیے آنے اور جانے اور دیگر اخراجات کے لیے ایوارڈ وصول کرنے والے کو کچھ رقم دی جاتی ہے اس رقم کی اکاؤنٹ میں منتقلی کے لیے بینک کی تفصیلات مانگی جاتی ہیں اس کے علاوہ تمام سول ایوارڈز وصول کرنے والوں کو کوئی بھی انعامی رقم نہیں ہیں دی جاتی البتہ جو افراد صدارتی ایوارڈ تمغہ برائے حسن کارکردگی (Pride of Performance ) کے لیے نامزد ہوتے ہیں ان کو ایوارڈ کے ساتھ 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم بھی دی جاتی ہے اس کے علاوہ عسکری ایوارڈز کے ساتھ بھی انعامی رقوم دی جاتی ہیں۔ صدارتی ایوارڈ تمغہ برائے حسن کارکردگی عموماً فنکاروں، سائنسدانوں اور عمدہ فن کا مظاہرہ کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر آصف علی زرداری نے 263 شخصیات کو 23 مارچ 2026 کو سول اعزازات دینے کی منظوری دیدی
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئندہ سال کے لیے 263 ملکی و غیر ملکی شخصیات کو سول اعزازات سے نوازنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعزازات 23 مارچ 2026 کو ہونے والی تقریب میں پیش کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انصار عباسی سول ایوارڈ خط سول ایوارڈز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سول ایوارڈ خط سول ایوارڈز ایوارڈ لینے سول ایوارڈ شخصیات کو کے علاوہ وصول کر دی جاتی کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔