data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: اردو افسانہ نگاری میں نمایاں مقام رکھنے والے شجاعت علی نے اپنے پہلے انگریزی ناول “Slanted Lines” کے ذریعے ادبی دنیا میں ایک نیا اور جرات مندانہ قدم رکھ دیا ہے، شجاعت علی ایک سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں اور اردو ادب میں حساس اور حقیقت پسند افسانوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، اس بار انہوں نے اپنی تخلیقی قوت کو انگریزی زبان میں منتقل کرتے ہوئے شہری متوسط طبقے کی جذباتی و معاشرتی پیچیدگیوں کو بے باک انداز میں پیش کیا ہے۔

Slanted Lines ایک شادی شدہ مرد توحید کی کہانی ہے، جو کراچی جیسے مصروف اور شور زدہ شہر میں ایک بے رنگ ازدواجی رشتے، بڑھتے مالی دباؤ، اور اندرونی جذباتی کشمکش کا شکار ہے۔ ناول ایک ایسے شخص کی داستان سناتا ہے جس کی زندگی کبھی ولولے، خواب اور آزادی سے بھرپور تھی، لیکن اب وہ فرض، بوریت اور نارسائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔

توحید کی بیوی سے دوری اور جذباتی خلا کے دوران، وہ کنوارے پن کے دنوں کی شدت اور بے ساختگی کو یاد کرتا ہے۔ اسی دوران جب ایک نئی ہمراہی اس کی زندگی میں نمودار ہوتی ہے، تو وہ ایک نازک لکیر پر چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے  وفاداری، کشش، اور جذباتی قربت کی انسانی ضرورت کے درمیان۔

ناول کا اسلوب حقیقت پسندانہ، پُراثر اور گہرے جذبات سے لبریز ہے، جو محبت، تنہائی، ازدواجی رشتوں میں دراڑ، سماجی اقدار اور ذاتی آزادی جیسے نازک موضوعات کو نہایت فنی انداز میں چھوتا ہے۔ شجاعت علی نے کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، داخلی کشمکش اور معاشرتی جکڑ بندیوں کو جس سلیقے سے قلم بند کیا ہے، وہ انہیں اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب میں بھی ایک قابلِ توجہ نام بنا دیتا ہے۔

Slanted Lines محض توحید کی کہانی نہیں، بلکہ اُن تمام افراد کی نمائندگی ہے جو اپنی روزمرہ زندگی میں بظاہر خوشحال دکھائی دیتے ہیں، لیکن اندر سے جذباتی خلا، شناخت کی تلاش، اور روحانی بے چینی سے دوچار ہوتے ہیں۔

ادبی حلقوں میں شجاعت علی کے اس ناول کو ایک طاقتور آغاز قرار دیا جا رہا ہے، جس میں نہ صرف زبان کا سلیقہ جھلکتا ہے بلکہ مشاہدے کی گہرائی اور جذبات کی شدت بھی نمایاں ہے۔ یہ ناول انگریزی ادب کے قارئین کے لیے پاکستانی متوسط طبقے کی اندرونی دنیا میں جھانکنے کا ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شجاعت علی

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت