زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی پیشقدمی جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
کراچی:
معیشت میں زرمبادلہ کی بڑھتی ہوئی طلب اور دسمبر تک ڈالر 300روپے سے متجاوز ہونے کی پیشگوئی کے باعث پیر کو بھی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی پیشقدمی جاری رہی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 284روپے سے تجاوز کر گئے۔
حکومت کی جانب سے نظر ثانی شدہ ترغیبی ڈھانچے کے سبب نئے مالی سال میں ترسیلات کی متوقع ریکارڈ آمد کی پیشگوئیوں، پاکستان کے مختلف شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاہدوں کو مارکیٹ نے نظرانداز رکھا اور انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر کی نسبت روپیہ کمزور رہا۔
قبل از بجٹ معطل شدہ درآمدی شپمنٹس بڑھنے سے ڈالر سپلائی کی نسبت ڈیمانڈ زائد رہی نتیجتا کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 25پیسے کے اضافے سے 284روپے 21پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 24پیسے کے اضافے سے 286روپے 64پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈالر کی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔