بھارت: بیوی نے نشے میں دھت شوہر کو ڈنڈوں سے پٹائی کرکے مار ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
بھارت کے جنوبی بنگال کے علاقے سداگونٹے پالیا میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں ایک 42 سالہ انجینئر بھاسکر کی اس کی اہلیہ شروتی کے ہاتھوں ڈنڈوں سے پٹائی کے بعد موت ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: وی لاگر ’ڈکی بھائی‘ کی بیگم کے ہاتھوں پٹائی والی ویڈیو کڑی تنقید کی زد میں
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا جب بھاسکر، جو گزشتہ 2 ماہ سے اپنی گھریلو ملازمہ محبوبہ کے ساتھ رہ رہا تھا، 27 جون کی رات شدید نشے کی حالت میں گاڑی کے کاغذات لینے اپنے گھر آیا۔
شروتی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے شوہر کو نشے کی حالت میں گاڑی چلانے سے منع کیا، جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور بات مارپیٹ تک جا پہنچی، بھاسکر نے اہلیہ پر تشدد کیا اور اپنی بیٹیوں کو گھر سے نکالنے کی کوشش کی۔ شروتی نے اپنے دفاع میں ڈنڈے سے شوہر پر وار کیے اور اسے شدید زخمی کردیا۔ اس کے بعد اس نے بھاسکر کو سونے کے لیے لیٹنے میں مدد کی، لیکن اگلی صبح جب بیٹیوں نے والد کو جگانے کی کوشش کی تو وہ بےحس پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گندم کی تقسیم کے معاملے پر جھگڑا، بیوی کے بہیمانہ تشدد سے شوہر جاں بحق
شروتی نے دعویٰ کیا کہ بھاسکر باتھ روم میں پھسل کر گر گیا تھا، مگر پولیس نے اس دعوے کو مسترد کردیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے تصدیق ہوئی کہ بھاسکر کی موت شدید صدمے کی وجہ سے ہوئی۔ پولیس نے شروتی کے خلاف تفتیش شروع کردی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
india we news بھارت بیوی تشدد جنوبی پنجاب سول انجنیئر شوہر نشہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بیوی سول انجنیئر شوہر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔