لاہور؛ شہری کے قتل کا معمہ حل، بیوی اور اسکا آشنا ملوث نکلے،پولیس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
لاہور:(نمائندہ خصوصی)گرین ٹاؤن میں شہری آصف کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، مقتول کو اس کی بیوی نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر قتل کیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ قیصرہ نے اپنے آشنا رضوان شاہ کے ساتھ مل کر شوہر کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ رضوان شاہ مقتول آصف کے پاس کام کرتا تھا اور اسی دوران دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوگئے تھے۔پولیس کے مطابق ملزم رضوان نے آصف کو اس کے کارخانے میں قتل کیا اور بعد ازاں لاش کو موٹر سائیکل پر رکھ کر پتوکی کے قریب نہر میں پھینک دیا۔ ذرائع کے مطابق آصف کے قتل کے بعد اس کی بیوی قیصرہ اپنے آشنا رضوان سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ مقتول آصف کے لاپتا ہونے کا مقدمہ 23 اکتوبر کو خود اس کی بیوی قیصرہ نے ہی درج کرایا تھا تاکہ شک اس سے ہٹ جائے۔ تاہم تفتیش کے دوران شواہد اور بیانات میں تضادات سامنے آئے جس پر پولیس نے قیصرہ اور رضوان شاہ کو حراست میں لے لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مقتول کی لاش نہر سے برآمد کر لی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔