جادو ٹونا کرنے کے شبہے میں قتل عمر رسیدہ شخص کا ڈھانچہ برآمد، ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
بھارتی ریاست اوڈیشہ کے علاقے بھوبنیشور میں ایک 72 سالہ بزرگ شخص کو اپنے خلاف جادو ٹونا کرنے کے شبہے میں 2 افراد نے مبینہ طور پر قتل کر دیا۔
بھارتی پولیس کے مطابق واقعہ تقریباً ایک ماہ قبل پیش آیا تھا، تاہم اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب جمعے کے روز جنگلات سے مقتول کی ہڈیوں کا ڈھانچہ برآمد ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: کالا جادو یا شرارت؟ دہلی کی عدالت میں ملزم کی انوکھی حرکت پر کارروائی معطل
پولیس نے اس قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
بھوبنیشور کے پولیس کمشنر کے مطابق مقتول کی شناخت اس کے بیٹے نے ایک گلے کے زیور کی بنیاد پر کی، جو ڈھانچے کے ساتھ ملا تھا۔ مقتول کی شناخت بلرام دیوگم کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق 30 ستمبر کی رات بلرام اپنے کھیت کی نگرانی کے لیے گئے تھے اور واپس نہیں لوٹے۔ بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دونوں ملزمان نے انہیں قتل کر کے لاش جنگل میں دفنا دی اور ان کے سامان کو قریبی تالاب میں پھینک دیا۔
ایک پولیس افسر کے مطابق دونوں گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت قتل کالا جادو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت قتل کالا جادو کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک