برطانوی وزیر اعظم کو پب سے نکال دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک مقامی پب کے مالک نےباہر نکال دیااور انہیں اپنے پب میں نہ آنے کی ہدایت دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسٹارمر ایک شہر کے دورے پر تھے اور پب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے پب کے مالک کو اندر جانے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ ان سے لڑ جھگڑ کر اندر داخل ہو گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے براہ راست وزیر اعظم کو کہا، “وہ شخص میرے پب میں خوش آمدید نہیں ہے۔” جب اسٹارمر نے باہر نکلتے ہوئے اس سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی، تو پب کے مالک نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور سختی سے کہا، “میرے پب سے نکل جاؤ۔”
اس کے بعد وزیر اعظم اور ان کی سکیورٹی ٹیم فوری طور پر وہاں سے نکل گئی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جہاں صارفین نے اسے برطانیہ میں عوام کی طاقت اور جمہوری حقوق کی عکاسی کے طور پر دیکھا۔
پب کے مالک کا کہنا تھا کہ انہیں اسٹارمر کی پالیسیز سے اختلاف ہے، خاص طور پر COVID-19 لاک ڈاؤن کے حوالے سے۔ تاہم، اس واقعے کو 2021 کا بتایا جا رہا ہے، جب اسٹارمر وزیر اعظم نہیں بلکہ اپوزیشن لیڈر تھے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ برطانیہ میں عوام کی رائے اور ان کے حقوق کتنی اہمیت رکھتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی سطح پر کیوں نہ ہوں۔
برطانوی وزیر اعظم کو باہر نکال دیا۔
برطانوی وزیر اعظم کئر اسٹارمر ایک شہر کے دورے کے دوران مقامی پب پہنچے۔ اسی اثناء میں جگہ کا مالک بھی وہاں پہنچ گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے اسے اندر جانے سے روکا لیکن وہ ان سے لڑ جھگڑ کر اندر داخل ہو گیا۔ اور اس نے براہ راست وزیر اعظم کو کہا۔
"… pic.
— Barrister Usman Cheema (@barristerCheema) June 30, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر اعظم کو پب کے مالک
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔