شہدا ئے کشمیر کی قربانیوں کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
حریت رہنمائوں نے سرینگر سے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ برہان وانی کے یوم شہادت کو کنٹرول لائن کے دونوں جانب یوم تجدید عہد کے طور پر منایا جائے گا تاکہ شہداء کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ شہید نوجوان رہنما برہان مظفر وانی سمیت کشمیری شہداء مادر وطن پر بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت کی علامت ہیں اور ان کی قربانیوں کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں 9ویں یوم شہادت پر برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جرات کشمیری نوجوانوں کے لیے آج بھی باعث تحریک ہے۔ برہان وانی اور اس کے دو ساتھیوں کو بھارتی فوجیوں نے 8 جولائی 2016ء کو ضلع اسلام آباد کے علاقے کوکرناگ میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کیا تھا۔ ان کے ماورائے عدالت قتل سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاجی تحریک شروع ہو گئی تھی جس دوران بھارتی فوجیوں نے پرامن مظاہرین پر گولیاں، پیلٹ اور آنسو گیس کے گولے برسا کر 150سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کیا تھا۔
حریت رہنمائوں نے سرینگر سے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ برہان وانی کے یوم شہادت کو کنٹرول لائن کے دونوں جانب یوم تجدید عہد کے طور پر منایا جائے گا تاکہ شہداء کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ برہان وانی اپنی ذات میں ایک ایسا ادارہ تھے جس نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نئی جہت دی اور انہیں کشمیر کی مزاحمتی تحریک میں”ایک نمایاں کردار” کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ان سینکڑوں اور ہزاروں شہداء کے مقروض ہیں جنہوں نے ہماری آزادی کے لیے اپنی جوانیاں قربان کیں، انہی قربانیوں کی بدولت تنازعہ کشمیر آج بین الاقوامی سطح پر مرکز نگاہ بن گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برہان وانی جائے گا کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔