آزاد کشمیر میں نئے قائد ایوان کا نام تحریک عدم اعتماد جمع کراتے وقت سامنے لایا جائے گا، پیپلز پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان تحریک عدم اعتماد جمع کرواتے وقت سامنے لایا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی مسائل اور تنظیمی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کے نام کا اعلان اسلام آباد سے نہیں بلکہ کشمیر سے ہوگا، بلاول بھٹو
ذرائع کے مطابق نئے قائد ایوان کا نام عدم اعتماد کی تحریک جمع کراتے وقت سامنے لایا جائے گا۔
اجلاس میں فریال تالپور، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، چوہدری محمد یاسین، سردار یعقوب خان، چوہدری لطیف اکبر، فیصل راٹھور و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تنظیمی ڈھانچے کی بہتری اور آزاد کشمیر میں سیاسی حکمتِ عملی کے اہم نکات پر بھی اتفاق کیا گیا۔
بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا ہے، جہاں ہماری کارکردگی اور جدوجہد پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ کشمیر کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے اور عالمی سطح پر کشمیری عوام کی آزادی کی لڑائی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری لطیف اکبر یا چوہدری یاسین؟ آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کا اعلان کل متوقع
ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر خارجہ انہوں نے کشمیری عوام کی آواز بین الاقوامی فورمز تک پہنچائی، اور جہاں بھی کشمیریوں کو مدد کی ضرورت پڑی، پیپلزپارٹی ان کے ساتھ کھڑی رہی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا، جس سے ایک غیرسیاسی سوچ کے باعث سیاسی خلا پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں سب کا کردار سب کے سامنے ہے، اور پیپلزپارٹی تین نسلوں سے کشمیر کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں کشمیری عوام کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ انہیں مایوس نہیں کروں گا، اور پیپلزپارٹی کی حکومت کی مکمل ذمہ داری میری ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکے ہیں اور انتخابات سے پہلے کا یہ وقت ہمارے لیے ایک امتحان ہے، جسے ہم کامیابی سے گزاریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد کشمیر بلاول بھٹوزرداری تحریک عدم اعتماد نیاوزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹوزرداری تحریک عدم اعتماد نیاوزیراعظم زاد کشمیر کے پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔