کون بنے گا آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم؟ زرداری ہاؤس میں اہم اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے تاہم نئے قائد ایوان کا اعلان نہ ہو سکا۔
آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام پر مشاورت کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس 31 اکتوبر کو شام 4 بجے طلب کر لیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر میں نئے وزیراعظم کے لیے چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین، سردار یعقوب اور راجا فیصل ممتاز راٹھور کے درمیان مقابلہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نئے قائد ایوان کے لیے فیورٹ ہیں تاہم پارٹی صدر ہونے کی وجہ سے قرعہ چوہدری یاسین کے نام بھی نکل سکتا ہے۔
یاد رہے کہ موجودہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے استعفی’ دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث اب تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ارکان نے دستخط کر دیے ہیں، صرف نئے قائد ایوان کا نام لکھنا باقی ہے۔
مسلم لیگ ن تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی تاہم نئے وزیراعظم کے انتخاب میں ساتھ نہیں دے گی بلکہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔
کل زرداری ہاؤس میں طلب کیے گئے اجلاس کی صدارت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی اہم ملاقات میں نئے قائدِ ایوان کے انتخاب پر مشاورت تقریباً مکمل ہو چکی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی اپنا حتمی امیدوار سامنے لے آئے گی۔
مرکزی رابطہ سیکرٹری پیپلز پارٹی آزاد کشمیر عامر ذیشان جرال کے مطابق تمام ارکان اسمبلی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بروقت اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند