عراق اور یونان کا براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق اور یونان نے دسمبر سے بغداد اور ایتھنز کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ اعلان عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین اور عراق کے دورے پرآئے ان کے یونانی ہم منصب جارج جیرپیٹریٹس کی ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔ یونانی وزیرِ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی ایئرلائنز دسمبر میں پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ عراقی وزیرِ خارجہ نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سماجی روابط کو مضبوط اور اقتصادی و سیاحتی تبادلوں کو فروغ دے گا۔ وزرائے خارجہ نے تجارت، تعلیم اور طبی شعبے میں تعاون بارے بھی گفتگو کی، یونانی کمپنیوں نے طبی سازوسامان اور ادویات کی فراہمی میں دلچسپی ظاہر کی۔علاقائی معاملات پر بات کرتے ہوئے دونوں وزرا نے غزہ کی صورتِ حال کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔عراقی وزیر خارجہ نے غزہ میں موجودہ جنگ بندی کے معاہدے کے لئے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔یاد رہے کہ یونان نے 1991 ء میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد بغداد کے لیے پروازیں معطل کر دی تھیں۔ 2010 کی دہائی میں فضائی سروسز دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے بنائے گئے تھے لیکن بعد ازاں مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں روک دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔