آزاد کشمیر، تحریک عدم اعتماد آئندہ 24 گھنٹے میں پیش کیے جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
پیپلز پارٹی کے صدر آزاد کشمیر کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں جس کے بعد پی پی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا اور وہ پیپلز پارٹی حکومت میں صدر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت کے مشاورتی اجلاس کے بعد آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد آئندہ 24 گھنٹے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کیلئے پیپلز پارٹی کے قائدین کا صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں اہم اجلاس ہوا جس میں بلاول بھٹو اور فریال تالپور سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی، اجلاس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں آزاد کشمیر میں عدم اعتماد سے متعلقہ قانونی امور پر غور کیا گیا، فاروق ایچ نائیک نے تحریک عدم اعتماد کی قانونی پیچیدگیوں پر اجلاس کو بریفنگ دی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے صدر آزاد کشمیر کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں جس کے بعد پی پی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا اور وہ پیپلز پارٹی حکومت میں صدر کے عہدے پر برقرار رہیں گے، اس کے ساتھ ہی بیرسٹر گروپ نے باضابطہ طور پر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پارٹی کے کے عہدے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔