وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد، پی پی اور ن لیگ میں نیا ڈیڈ لاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد، پی پی اور ن لیگ میں نیا ڈیڈ لاک WhatsAppFacebookTwitter 0 30 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں نیا ڈیڈ لاک پیدا ہو گیاہے ، مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کیلئے قبل از وقت انتخابات کی شرط رکھ دی۔
مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنرکی تعیناتی سمیت دیگر آئینی لوازمات پورے کرنے کے بعد قبل ازوقت انتخابات کرائے جائیں تو عدم اعتماد میں ساتھ دیں گے۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ کا موقف ہے کہ آزادکشمیر میں نئے انتخابات ہی سیاسی استحکام لاسکتے ہیں، پیپلزپارٹی اربوں روپے کے فنڈز سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے، پیپلزپارٹی ہزاروں سرکاری ملازمتوں سے بھی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ن لیگی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن کو بھی آزاد کشمیر حکومت میں شامل کرنے کی خواہاں ہے ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی اعلی قیادت کی معاملہ حل کرنے کیلئے دوبارہ بیٹھک ہو گی۔ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیکر پھر اپوزیشن میں اسی لئے بیٹھیں گے تاکہ فوری انتخابات کرائے جائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم آزادکشمیرکیخلاف تحریک عدم اعتماد یکم نومبر کو پیش کیے جانے کا امکان وزیراعظم آزادکشمیرکیخلاف تحریک عدم اعتماد یکم نومبر کو پیش کیے جانے کا امکان آزاد کشمیر، وزارت عظمی کیلئے چوہدری یاسین کے نام پر پیپلزپارٹی میں اختلافات اسلام آباد بار کونسل کے انتخابات کیلئے یکم نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں تعطیل کا اعلان حکومت کا کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنیکا فیصلہ بانی پی ٹی آئی سے رفقا کی ملاقات کا دن، کسی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی خالی نشست پر پی ٹی آئی امیدوارخرم ذیشان کامیابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد اور ن لیگ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔