مخصوص نشستوں پر بحال ارکان کی چاندی، معطلی کے عرصہ کی تنخواہیں بھی دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ کے فیصلے کی روشنی میں مخصوص نشستوں پر بحال ارکان کی چاندی ہو گئی،بحال ارکان کو معطلی کے عرصہ کی تنخواہیں بھی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 77ارکان کو 13مئی 2024کو معطل کیا گیا تھا، معطلی کا نوٹیفکیشن ہوتے ہی ارکان کی تنخواہیں روک لی گئی تھیں،19خواتین، 3اقلیتی ممبران سمیت قومی اسمبلی کے 22ارکان معطل ہوئے تھے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ 22میں سے 19ارکان کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیاجبکہ3نشستوں پر ہونا باقی ہے،ذرائع کاکہنا ہے کہ 13مئی سے عدالتی فیصلے کی تاریخ تک بنیادی تنخواہ دی جائےگی،مخصوص نشستوں پر بحال ارکان کو ٹی اے ڈی اے اور دیگر الاؤنسز نہیں ملیں گے،13مئی 2024سے 31دسمبر2024تک ڈیڑھ لاکھ فی رکن تنخواہ ادا کی جائے گی، یکم جنوری 2025سے عدالتی فیصلے تک بڑھائی گئی تنخواہ ملے گی، صوبائی اسمبلی کے 55ارکان کو بھی تنخواہ اسمبلی ایکٹ کے مطابق ادا ہو گی۔
ہم پہ لے آئے ہیں سیلاب قیامت کیا کیا۔۔۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بحال ارکان ارکان کو ارکان کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔