پاکستان میں جادو ٹونے کے خلاف کوئی مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔ لیکن 2024 میں سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے “Criminal Laws (Amendment) Bill, 2024” کے متن میں جادو، ٹونا، سحر جیسے عملیات کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ اس بل کے تحت پریکٹس یا اشتہار دینے پر 7 سال تک قید کی تجویز پیش کی گئی تھی مگر یہ بل اب تک قانون نہیں بن سکا۔

واضح رہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد جادو ٹونے یا عملیات کے خلاف کوئی مخصوص، جامع قانون فوری طور پر نہیں بنایا گیا۔ تاہم مختلف قوانین میں بعض دفعات موجود ہیں جن کے تحت جادو یا عملیات کے خلاف کیسز کو سنا جا سکتا ہے۔

موجودہ قانونی دفعات اور ان کا اطلاق پاکستان پینل کوڈ (PPC) – دفعہ 420

دھوکہ دہی اور فریب کے تحت آتا ہے۔ اگر کوئی شخص جادو یا عامل بن کر لوگوں سے پیسے لیتا ہے یا جھوٹے دعوے کرتا ہے تو اس پر یہ دفعہ لگ سکتی ہے۔جس کے تحت ایسے شخص پر 7 سال قید اور جرمانہ ہوتا ہے۔

 PPC دفعہ 505 (1b)2

اگر کوئی شخص جادو کے ذریعے خوف پھیلائے یا عوامی امن میں خلل ڈالے تو یہ دفعہ لاگو ہو سکتی ہے۔

 PPدفعہ 295 اور 298 (مذہبی جذبات مجروح کرنے کے قوانین)

اگر کوئی جادو یا عملیات مذہب کے خلاف ہوں، تو ان دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سائبر کرائم ایکٹ (PECA 2016)

اگر جادو کے جھوٹے دعوے یا دھوکہ دہی سوشل میڈیا یا ویب پر کی جائے، تو یہ ایکٹ لاگو ہو سکتا ہے۔

اہم بل اور تجاویز جو قومی یا صوبائی اسمبلیوں میں پیش ہو چکے ہیں سندھ جادوگری ایکٹ (Proposed – 2020)

سندھ اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق جادو کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانے والے کو سزا دی جائے۔

اس میں 3 سال قید اور جرمانے کی تجویز دی گئی تھی، مگر یہ بل پاس نہیں ہو سکا۔

خیبر پختونخوا – عاملوں کے خلاف کارروائی (2022-23)

خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عاملوں اور جعلی پیروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، لیکن یہ بھی عارضی اقدامات تھے، نہ کہ مکمل قانون سازی۔

مختلف عدالتوں کے فیصلے

عدالتوں نے کئی مواقع پر عاملوں کو دھوکہ دہی اور غیر اخلاقی حرکتوں پر سزا دی، مگر ان فیصلوں کی بنیاد بھی PPC کی عمومی دفعات ہی تھیں، جبکہ جادو کے خلاف کوئی خصوصی قانون نہیں تھا۔

سینیٹ میں پیش کیا گیا بل

ستمبر 2024 میں سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک خطرناک سماجی پریکٹس جادو ٹونا کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنانے کی سفارش کی۔  “Criminal Laws (Amendment) Bill, 2024” کے تحت ایسے افراد جو جادو کرتے یا اس کا اشتہار دیتے ہیں، تو 7 سال تک قید اور 1 ملین روپے جرمانہ کی سزا تجویز کی گئی۔

کمیٹی نے نشاندہی کی کہ اشتہارات عوام کو بکثرت مل رہے ہوتے ہیں، ان کی حدود کا تعین ضروری ہے۔  سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایک نئی حکومتی کمیٹی بنانے اور مسلمان علما سے مشاورت کرنے کی سفارش کی تاکہ اس قانونی فریم ورک میں اسلامی تعلیمات کو بھی مدِنظر رکھا جا سکے۔

تاہم سینیٹ میں پیشگی منظوری کے باوجود، اسے سینیٹ فل ہاؤس یا قومی اسمبلی میں منظوری یا صدر مملکت کی طرف سے سند نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھیے جادو ٹونا کرنے والے ہوشیار، سینیٹ میں ترمیمی بل پیش، سخت سزا تجویز

ماہرین کا کہنا ہے کہ علما کی مشاورت سے اسلامی فریم ورک میں توازن لایا جا سکتا ہے، مگر اس سے فرقہ پرستی یا غلط گرفتاریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان میں جادو ٹونا کے خلاف قوانین ایک نئے موڑ پر کھڑے ہیں۔ اگر بل پاس ہوا تو سخت سزاؤں اور جرمانے سے تجربہ کرنے والوں کے خلاف واضح قانونی راستہ ممکن ہوگا۔ تاہم اس کے نفاذ میں قانونی وضاحت، انسانی حقوق کا تحفظ، اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کو یقینی بنانا چیلنج رہے گا۔

پاکستان میں جادو ٹونا کرنے اور کروانے والوں کی تعداد کتنی ہے؟

پاکستان میں جادو ٹونا کے حوالے سے اگرچہ کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، لیکن مختلف تحقیقی رپورٹس اور مشاہدات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں جادو، سحر اور عاملوں پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ایک تحقیق کے مطابق دیہی علاقوں میں تقریباً 55 فیصد اور شہری علاقوں میں 45 فیصد افراد جادو ٹونا پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان کی کل آبادی کو مدِنظر رکھا جائے تو اندازاً 12 سے 13 کروڑ افراد کسی نہ کسی درجے میں جادو یا روحانی اثرات پر یقین رکھتے ہیں۔ اس قدر بڑی آبادی میں سے لاکھوں افراد مختلف پیروں، عاملوں، نجومیوں یا روحانی معالجین سے رجوع کرتے ہیں۔

مختلف میڈیا رپورٹس کے ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں کم از کم 60 ہزار سے لے کر 1.

2 لاکھ کے درمیان ایسے افراد یا جعلی عاملین موجود ہیں جو جادو ٹونا، بندش، تعویذ، سحر اور  ایسی ہی دیگر ’خدمات‘ فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

 صرف پنجاب میں 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق 10 ہزار سے زائد ایسے عاملین رجسٹرڈ یا فعال تھے۔ چونکہ یہ سرگرمیاں زیادہ تر غیر رسمی طریقے سے کی  انجام دی جاتی ہیں، اس لیے ان کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہے، تاہم سوشل میڈیا، اشتہارات اور اخبارات میں ان کی موجودگی سے یہ واضح ہے کہ جادو ٹونا کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ اور ان کا اثر عام زندگی پر خاصا گہرا ہے۔

 متحدہ عرب امارات میں جادو ٹونے پر مقدمہ

جولائی 2023 میں متحدہ عرب امارات کی عدالت نے 7 افراد کو گرفتار کیا جو دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے پاس ’400 سال پرانا جن‘ تھا اور وہ جادو ٹونا کر رہے تھے۔ انہیں 6 ماہ قید اور 50 ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ اگرچہ یہ پاکستان کا کیس نہیں لیکن یہ بتاتا ہے کہ خطے میں جادو ٹونے کے مقدمات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

یو اے ای میں جادو ٹونے کے خلاف کیا قوانین ہیں؟

یو اے ای میں جادو ٹونا اور اس کے متعلق کام کرنے والوں کے خلاف قانون نہ صرف واضح اور مخصوص ہے، بلکہ اس پر کسی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ 2021 کے قانون سازی کے بعد سے یہ جرم سزا یافتہ، ضبط شدہ، اور غیر ملکیوں میں ڈیپورٹیشن لاگو کرنے والا جرم بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے نائجیرین نژاد برطانوی مصنفہ جو اپنی ہی لکھی کہانیاں پڑھ کے ڈر جاتی ہیں

یو اے ای میں جادو ٹونا (سورکری یا وِچرکرافٹ) کے خلاف قوانین حالیہ برسوں میں سخت تر ہو چکے ہیں۔ وہ کونسے قوانین ہیں؟ آئیے جانتے ہیں:

1۔ Federal Decree‑Law No. 31 of 2021 (Crimes & Penalties Law)، آرٹیکل 366

اس قانون کے تحت ’ماڈک یا جگلری‘ (جادو ٹونہ یا جادو کے عمل) کو براہِ راست جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسے کرنے یا اس کے ذریعے کسی انسان کے جسم، دل، ذہن یا مرضی کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کم از کم AED 50,000 جرمانہ اور قید کی سزا دی جاتی ہے، اور غیر ملکی مجرمین کی صورت میں ڈیپورٹیشن بھی ہوتی ہے، جبکہ جادوئی آلات ضبط کر کے تلف بھی کیے جاتے ہیں۔

2۔ آرٹیکل 367 – اشتہاری، معاون یا سمگلنگ اقدامات شامل

یہ دفعات ان لوگوں پر لاگو ہوتی ہیں۔ جو دوسروں سے جادو کروانے میں معاونت کرتے ہیں، جادوئی کتابیں، تعویذ یا آلات درآمد یا فروغ کرتے ہیں، یا اشتہاری سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان پر قید اور/یا جرمانہ لاگو ہوتا ہے ۔

پاکستان میں جادو ٹونے کے الزام میں گرفتاری اور مقدمات تو ہوتے ہیں، مگر زیادہ تر کیسز  سے ’قتل‘، ’دھوکہ‘، یا ’فراڈ‘ جیسی دفعات کے تحت نمٹا جاتا ہے۔ صرف جادو/سحر کی خاص تعریف یا سزا موجود نہیں، جس کی وجہ سے سزائیں متفرق اور روایتی قانونی فریم ورک کے تحت ہوتی ہیں۔ یو اے ای کی مثال مؤثر ہو سکتی ہے، مگر پاکستان میں اس موضوع پر مخصوص قانون سازی ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں۔

بعض پاکستانی ماہرین اس طرح کے جادو، ٹونا اور عملیات کرنے والوں کے خلاف نہ صرف کریک ڈاؤن سے اتفاق کرتے ہیں۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس سب کے خلاف باقاعدہ قانون ہو جس کے تحت کاروائی کی جا سکے۔ تاکہ جعلی پیروں، اور غلط عملیات کرنے والوں کا خاتمہ ہو سکے۔ مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے۔ جب حکومتی سطح پر اس کے خلاف سنجیدگی سے قوانین بنائے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جادو ٹونے کے خلاف قوانین جادو، ٹونا، عملیات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جادو ٹونے کے خلاف قوانین پاکستان میں جادو ٹونا میں جادو ٹونے کے کے خلاف قوانین جادو ٹونا کے جادو ٹونا کر کرنے والوں کے مطابق کرتے ہیں یو اے ای جادو کے قید اور سکتی ہے سکتا ہے کے تحت

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل