data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: چیری نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہوتی ہے بلکہ صحت کے لیے متعدد فوائد کا خزانہ بھی ہے،  جدید طبی تحقیقات اور طبی ماہرین کا کہنا ہےکہ چیری طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ اور ضدِ سوزش،چیری میں اینتھوکیاننز، پولی فینولز اور وٹامن سی و بیٹا،کیروٹین جیسی مقدار ہوتی ہے جو خلیات کو oxidative stress اور سوزشی عمل سے بچاتی ہیں ۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق طبی ڈائٹیشینز  ماہرنے چیر ی کوسوزش سے لڑنے والا پھل” قرار دیا ہے جو دل، ذیابیطس اور سرطان جیسے دائمی امراض کا خطرہ کم کرتا ہے ، کھیلوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور پٹھوں کے درد کو کم کرنے میں چیری کا جوس یا پاوڈر مؤثر ہے ۔

طبی ماہرین کاکہنا تھا کہ  16 میل دوڑنے والوں نے اسے پیتے ہوئے درد و زکام میں واضح فرق محسوس کیا ،چیری خصوصاً ٹارٹ چیری میں melatonin اور serotonin شامل ہوتے ہیں، جو نیند کے چکر کو مستحکم کرتے ہیں، مطالعے نے ثابت کیا کہ چیری کا جوس نیند کی مقدار اور معیار بڑھاتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہےکہ  وٹامن سی، پوٹاشیم، اور فائبر دل کو مضبوط بنانے میں مددگار ہیں۔ یہ خون کا دباؤ کم کرنے اور کولیسٹرول بہتر رکھنے میں معاون ہیں ، چیری یورک ایسڈ کی سطح کم کرتی ہے، جس سے گاؤٹ اور osteoarthritis کی علامات میں 33–35٪ کمی دیکھی گئی ۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایک کپ چیری میں تقریباً 3 گرام فائبر ہوتا ہے، جو قبض کو روکتا ہے اور آنتوں کی صحت بڑھاتا ہے ، گلیسیمک انڈیکس میں کمی اور فائبر، اینتھوسیاننز کی موجودگی سے چیری بلڈ شوگر کو مستحکم کرنے اور وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔

تحقیق میں مزید کہا گیا کہ  ایک کپ (154 g) میٹھی چیری: تقریباً 97 کیلوریز، 25 g کاربوہائیڈریٹ، 3 g فائبر، 12٪ ڈی وی وٹامن سی، 10٪ پوٹاشیم،  ٹارٹ چیری غذائی اجزاء میں زیادہ طاقتور: وٹامن اے اور سی کے لحاظ سے 50 فیصد زیادہ ویلیو ۔

طبی ماہرین نے کہاکہ چیر ی کو کیسے کیسے استعمال کریں؟اس طریقہ یہ ہےکہ  تازہ صبح ناشتہ یا سلاد میں بغیر زائد چینی والی ٹارٹ چیری جوس شیک یا پانی میں، یخ شدہ یا خشک شکل میں بھی محفوظ اور مفید ہوگا۔

چیری کا زیادہ استعمال حساس افراد میں معدے میں درد یا دست کا باعث بن سکتا ہے ، چیری کے بیج زہریلے امیگلڈین رکھتے ہیں، جو کھانے سے قبل نکالنا ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، گرمی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کی پیشگوئی
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان