کراچی میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر سب سے زیادہ ای چالان جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں تیز ہو گئیں۔ صرف 24 گھنٹوں کے دوران ٹریفک پولیس نے مزید 5 ہزار 791 الیکٹرانک چالان جاری کیے، جس کے بعد گزشتہ چار دنوں میں مجموعی طور پر 18 ہزار 733 ای چالانز کا ہدف عبور کر لیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق بدھ کی شب 12 بجے سے جمعرات کی شب 12 بجے تک سب سے زیادہ چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر کیے گئے، جن کی تعداد 3 ہزار 546 رہی۔ اس کے بعد بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے پر 1 ہزار 555، ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی پر 325، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال پر 166 اور اوور اسپیڈنگ پر 65 چالان جاری کیے گئے۔
اس کے علاوہ کالے شیشے لگانے پر 40، نو پارکنگ پر 19، رانگ وے پر 13، اوور لوڈنگ پر 9 اور بے جا لوڈنگ پر 6 ڈرائیوروں کو چالان کیا گیا۔
ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ای چالان کا یہ نظام شہریوں میں قوانین کی پاسداری کو فروغ دینے اور سڑکوں پر مؤثر نگرانی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی تعاون سے اس نظام کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر ہو اور حادثات میں واضح کمی لائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک