اسلام آباد ،جماعت اسلامی کا ترامڑی چوک پر اسپتال کی عدم تعمیر پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی اسلام آباد کی طرف سے ترامڑی چوک اسپتال کی تعمیر کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کہاہے کہ ترامڑی چوک اسپتال کی تعمیر فوری شروع کی جائے ،یہ اسپتال یہاں رہنے والے اسلام آباد کے ایک چوتھائی آبادی کاحق ہے ،اگر عوام کوان کا حق نہیں دیاگیا تو ایوانوںسمیت ہر جگہ احتجاج کرکے حق لیں گے حکمرانوں کویہ حق دیناپڑے گا، بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیح عوام کو سہولت دینا نہیں بلکہ مشکلات کا شکار کرنا ہے ،اسلام آباد لاہور جتنا ٹیکس ادا کرتا ہے مگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جمعہ کو جماعت اسلامی اسلام آباد نے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد کی قیادت میں غوری گارڈن لہتراڑروڈ پر ترامڑی چوک اسپتال تعمیر کرو احتجاجی مظاہرہ کیا۔ امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ، صدر سیاسی امور جماعت اسلامی اسلام آبادہما ایوب اور فرید خان ناظم جماعت اسلامی زون 2نے ترامڈی چوک اسپتال تعمیر کرو احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کیا ، احتجاجی مظاہرے میں لہتراڑ روڑ اور غوری ٹاؤن کی آبادی شریک ہوئی۔امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے خطاب لرتے ہوئے کہاکہ تمام مظاہرین کو لہتراڑ روڈ پر اپنے جائز حق کے لیے مظاہرہ کرنے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ یہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا علاقہ ہے ایک چوتھائی آبادی اس علاقے میں آباد ہے لیکن عوام بنیادی صحت کے حق سے محروم ہے، یہ تحریک لوگوں کے دلوں کی آواز ہے یہ یہاں کے عوام کی عین ضرورت ہے یہاں پر تین دہائیوں سے اسپتال کے لیے زمین مختص کی گئی ہے مگر ابھی تک اسپتال تعمیر نہیں کیا گیا ،ہمارے حکمران عوام کو بنیادی حقوق نہیں دے رہے ہیں۔عوام عرصے دارز سے اسپتال کا مطالبہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومتی ترجیحات عوامی حقوق سے متصادم ہیں، آج مقامی عوام نے نمائندہ اجتماع کر کے اپنی آواز بلند کر دی ہے،ترامڑی چوک اسپتال کی چار دیواری کے اندر غلاظت کی ڈھیر اسپتال نہیں، جو انتظامی لاپروائی کی علامت ہے ،ترامڑی چوک میں فوری اسپتال قائم کیا جائے جس میں میڈیکل اسپیشلسٹ، بچوں کے وارڈز اور ایمرجنسی سہولتیں موجود ہوں،میں سوال کرتاہوں کہ حکمرانوں کو کس نے یہ بنیادی حق عوام کودینے سے روکا ہے۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیح عوام کو سہولت دینا نہیں بلکہ مشکلات کا شکار کرنا ہے۔ فوری طور پر ترامڑی چوک میں اسپتال بنایاجائے۔ اگر ہمارا مطالبہ نہیں مانا جاتا تو ایوانوں کے سامنے بھی احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسپتال کا فنڈ موجود ہے مگر اسپتال نہیں بنایا جارہاہے۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک بڑا اسپتال یہاں بنایا جائے آج ہم اس تحریک کا آغاز کررہے ہیں یہ اس علاقے کے عوام کا حق ہے آپ کو یہ حق دینا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی اسلام ا باد اسپتال کی عوام کو
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔