امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کرنے پر قطر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکی صدر کی ملائیشیا جاتے ہوئے قطری دارالحکومت دوحہ میں ایئر فورس ون کی ری فیولنگ کے دوران جہاز میں امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی۔ دوران ملاقات وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ٹرمپ نے کہا کہ قطر نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور ان کی شراکت کے بغیر یہ ممکن نہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم سے قطری وزیرِ تجارت کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم

امیرِ قطر نے ایک بیان میں کہا کہ ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد، مشرقِ وسطیٰ میں امن کی پیش رفت، اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون پر بات چیت ہوئی۔

ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار اسرائیل کے دورے پر ہیں تاکہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات کی جا سکے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر جنگ بندی برقرار نہ رہی تو ہم صورتِ حال کو بہت جلد سنبھال لیں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ معاہدہ قائم رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی فورس کے قیام پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے، جس میں 59 ممالک شامل ہونے پر آمادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: قطر کو امریکا میں فضائی اڈہ قائم کرنے کی اجازت مل گئی، دو طرفہ دفاعی تعلقات مزید مضبوط

قطری حکومت کے مطابق، ملاقات میں خطے میں امن کے فروغ اور غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

ادھر غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، نُصیرات کیمپ میں ایک گاڑی پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے، جسے مبصرین نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امیر قطر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟