ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ آج
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
آج ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ ہو رہا ہے، جس میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر امتحان کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر سی ای او سندھ ٹیسٹنگ سروس پروفیسر آصف احمد شیخ نے وضاحت دی ہے کہ جو پرچے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، وہ جعلی ہیں اور ان کی کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ جو طلبہ جووینائل کارڈ کے بغیر امتحان دینے والے ہیں، وہ مایوس نہ ہوں اور اپنے میٹرک یا انٹر کی اوریجنل مارک شیٹ ساتھ لائیں۔
داخلہ ٹیسٹ کے لیے ملک بھر میں 32 مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی ایک مرکز فعال ہے۔ کراچی میں ڈاؤ اور این ای ڈی یونیورسٹی میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک متاثر ہے اور روانی برقرار رکھنے کے لیے پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
اس ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے تقریباً 22 ہزار طلبہ کو ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز میں داخلہ مل سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔