بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 10 جولائی 2025 کو سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ اور 2 دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سنائے گا۔ یہ مقدمہ جولائی میں ہونے والے مبینہ قتلِ عام کے واقعات سے متعلق ہے، جسے سرکاری طور پر ’جولائی بغاوت‘ کہا جا رہا ہے۔

ٹرائبیونل کی سربراہی جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کر رہے ہیں، جبکہ بینچ میں مزید 2 ججز شامل ہیں۔ سماعت کا دوسرا روز پیر کو مکمل ہوا، جس میں سابق وزیرِداخلہ اسد الزمان خان اور گرفتار سابق آئی جی پولیس چوہدری عبداللہ المامون بھی شامل ملزمان کے طور پر پیش ہوئے۔

سرکاری وکیل امیر حسین، جو شیخ حسینہ اور سابق وزیرِداخلہ کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ جولائی تا اگست کے دوران بنگلہ دیش میں کوئی باقاعدہ جنگ نہیں ہو رہی تھی، بلکہ یہ سیاسی نوعیت کا تصادم تھا۔ ان کے مطابق 1973 کا بین الاقوامی جرائم ایکٹ اس صورتحال پر لاگو نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد کو توہین عدالت پر 6 ماہ قید کی سزا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ استغاثہ کی جانب سے شیخ حسینہ کو محض سیاسی وجوہات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ اس عرصے کے دوران وہ کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں کی قیادت کر رہی تھیں۔ ان کے بقول، شیخ حسینہ کے خلاف ایسے کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کریں کہ انہوں نے براہِ راست کسی بھی کارروائی کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب، پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ مئی 2025 کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں شیخ حسینہ کو ان واقعات کی مرکزی محرک قرار دیا گیا ہے، جن میں مبینہ طور پر جمہوریت نواز طلبہ مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سابق آئی جی چوہدری عبداللہ المأمون کو زیرِ حراست عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ مقدمے کی پہلی سماعت یکم جولائی کو ہوئی تھی، جس کے کچھ حصے سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کیے گئے۔ قبل ازیں ٹرائبیونل نے تحقیقاتی اداروں کو 20 اپریل تک اپنی تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ مقدمہ بنگلہ دیش کی حالیہ سیاسی تاریخ کا سب سے حساس اور ہائی پروفائل کیس قرار دیا جا رہا ہے، جس پر ملکی و بین الاقوامی سطح پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، خصوصاً عدالتی شفافیت کے حوالے سے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل بنگلہ دیش فرد جرم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل بنگلہ دیش بنگلہ دیش

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان