پی آئی اے کے حق میں 13 سال قبل مقدمے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن) پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کے حق میں 13 سال قبل مقدمے کا فیصلہ،پی آئی اے کو فیصلے کے نتیجے میں مالی معاوضے کی مد میں 3 ارب 9 کروڑ 10لاکھ روپے موصول۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ پی آئی اے سے متعلق ایک بہترین خبر سامنے آئی ہے تیرہ سال پہلے مقدمے کا فیصلہ پی آئی
اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے حق میں آیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ فیصلے کے نتیجے میں پی آئی اے انویسٹمنٹ کے اکاو¿نٹ میں 3 ارب 9 کروڑ دس لاکھ موصول ہو چکے ہیں فیصلے اور اس پر پر عملدرآمد میں کل 28 سال کا وقت لگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی آئی اے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔