data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن: برطانیہ میں سرگرم فلسطین حامی گروہ فلسطین ایکشن پر دہشت گردی کے قانون کے تحت ممکنہ پابندی کیخلاف لندن میں رائل کورٹس آف جسٹس کے باہر سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی، انہوں نے برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کی حمایت میں فلسطینی حامی آوازوں کو دبا رہی ہے اور پرامن سیاسی احتجاج کو جرم بنا رہی ہے۔

یہ مظاہرہ اس وقت کیا گیا جب عدالتِ عالیہ میں اس حکومتی اقدام کے خلاف دائر کردہ ایک قانونی چیلنج پر سماعت جاری تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ روک دیا جائے۔

فلسطین ایکشن ایک متحرک کارکن گروہ ہے جو اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی البت سسٹمز (Elbit Systems) اور دیگر ایسی کمپنیوں کے خلاف براہ راست کارروائیاں کرتا رہا ہے جن پر اسرائیل کے مظالم میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اگر اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا جاتا ہے تو اس کی رکنیت یا حمایت کرنے والے کو 14 سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدیٰ عموری کے وکیل رضا حسین کے سی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک پرامن اور عدم تشدد پر مبنی شہری نافرمانی کی تحریک کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے، جو نہایت آمرانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ کو سفرجٹس، نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد اور عراق جنگ مخالف تحریک جیسے پرامن احتجاج سے متاثر ہو کر یہ تحریک شروع کرنے کی تحریک ملی۔

ادھر مظاہرے کے دوران اس وقت کچھ کشیدگی پیدا ہوئی جب ایک اسرائیل حامی شخص نے مظاہرین کو اشتعال دلانے کی کوشش کی، پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو موقع سے ہٹا دیا اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔

برطانوی وزارت داخلہ اس پابندی کو موخر کرنے کی درخواست کی مخالفت کر رہی ہے اور یہ مؤقف رکھتی ہے کہ اس گروہ کی سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں، یہ اقدام اس ہفتے ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز سے منظور ہونے کے بعد نافذالعمل ہونے کے قریب ہے اور اگر عدالت نے روکنے کا حکم نہ دیا تو یہ پابندی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے نافذ ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ فلسطین ایکشن نے حالیہ برسوں میں البت سسٹمز اور اس کے شراکت داروں کے دفاتر، فیکٹریوں اور تنصیبات پر متعدد بار احتجاجی مظاہرے، دیواروں پر پینٹ، اور علامتی قبضے کی کارروائیاں کی ہیں، جن کا مقصد اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں کی سرگرمیوں کو روکنا اور فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کو بے نقاب کرنا ہے۔

ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے کا اعلان متوقع ہے، جس کے بعد برطانیہ میں انسانی حقوق اور احتجاج کی آزادی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطین ایکشن کے خلاف

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ