پارٹی کی فلسطین پالیسی سے اختلاف پر برطانیہ کی پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
برطانوی سیاست میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے جہاں پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ زہرا سلطانہ نے 14 سالہ وابستگی کے بعد لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ قدم انہوں نے پارٹی کی فلسطین پالیسی اور سوشل بینیفٹس سسٹم پر اختلافات کی بنیاد پر اٹھایا ہے۔
زہرا سلطانہ نے سماجی میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے جا رہی ہیں۔ انہوں نے سابق لیبر پارٹی لیڈر جیرمی کوربن کے ساتھ مل کر نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کے اپنے ارادوں کا بھی اعلان کیا۔
Today, after 14 years, I’m resigning from the Labour Party.
Jeremy Corbyn and I will co-lead the founding of a new party, with other Independent MPs, campaigners and activists across the country.
Join us. The time is now.
Sign up here to stay updated: https://t.co/MAwVBrHOzH pic.twitter.com/z91p0CkXW0 — Zarah Sultana MP (@zarahsultana) July 3, 2025
یہ استعفیٰ لیبر پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ زہرا سلطانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی سیاسی قوت بنانا چاہتی ہیں جو عوامی مفادات کو ترجیح دے گی اور موجودہ نظام میں اصلاحات لائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق زہرا سلطانہ کا یہ قدم برطانوی سیاست میں نئے سیاسی امکانات کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ان برطانوی پاکستانیوں کے لیے جو موجودہ سیاسی جماعتوں کے پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ زہرا سلطانہ کی نئی سیاسی جماعت کے قیام سے برطانوی سیاست کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔