خستہ عمارتوں کے خلاف سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، جلد عملدر آمد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لیاری میں حالیہ عمارت گرنے کے المناک واقعے کے بعد سندھ حکومت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے سربراہ کو معطل کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ شہر بھر میں انتہائی مخدوش قرار دی گئی 51 عمارتوں کو فوری طور پر منہدم کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
وزیرِ بلدیات سعید غنی، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ڈی جی ایس بی سی اے کو فوری معطل کرتے ہوئے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے اور سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہوگی، اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا دائرہ وسیع کرکے کمشنر کراچی کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیرِ بلدیات سعید غنی نے کہا کہ SBCA کے ان تمام افسران کو انکوائری میں شامل کیا جا رہا ہے جو 2022 سے اب تک اس علاقے میں تعینات رہے۔ اگر کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: لیاری بغدادی میں 60 گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن مکمل، مخدوش عمارتوں کیخلاف آپریشن کا اعلان
انہوں نے مزید بتایا کہ کمشنر کراچی کو حکم دیا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں میں مخدوش 51 عمارتوں کی تفصیلات فراہم کریں جنہیں گرانے کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا، جبکہ 588 دیگر خطرناک عمارتوں کی درجہ بندی کرکے فیصلہ کیا جائے گا کہ کس کو گرانا ہے اور کس کو مرمت سے بحال کیا جا سکتا ہے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ حکومت رہائشیوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی، سیلاب یا کورونا جیسی ایمرجنسیز کی طرح متبادل بندوبست کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ان عمارتوں میں رہنے والوں کی ملکیت، کرایہ داری یا پگڑی کے حساب سے تفصیلات بھی مرتب کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس بی سی اے کے قانون میں ترمیم کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں چیف سیکریٹری، وزیرِ قانون اور میئر کراچی بھی شامل ہیں، اور 2 ہفتوں میں مجوزہ ترامیم پیش کی جائیں گی۔
وزیرِ داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ مجرمانہ غفلت پر ذمہ داروں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، اور کسی بے گناہ کو نامزد نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ قانون میں سقم موجود ہیں جنہیں دور کیا جائے گا۔
سندھ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ پورے صوبے میں 740 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی ہو چکی ہے، اور SBCA کی جانب سے قانونی کارروائی، نوٹسز، اشتہارات، اور اعلانات کیے جانے کے باوجود ذمے داری سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعید غنی سندھ حکومت لیاری مخدوش عمارتیں وزیراعلیٰ سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت لیاری مخدوش عمارتیں وزیراعلی سندھ کیا جائے گا عمارتوں کی سندھ حکومت نے کہا کہ انہوں نے کیا جا
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔