لیاری کی مخدوش عمارتوں کیخلاف آج سے آپریشن شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسسٹنٹ کمشنر لیاری کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گرنے والی عمارت کے اطراف 3 عمارتوں کی حالت بھی مخدوش ہے، تینوں مخدوش عمارتوں کو خالی کرالیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسسٹنٹ کمشنر نے لیاری کی مخدوش عمارتوں کیخلاف آج سے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ اسسٹنٹ کمشنر لیاری شہر یار حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرنے والی عمارت کے اطراف 3 عمارتوں کی حالت بھی مخدوش ہے، تینوں مخدوش عمارتوں کو خالی کرالیا گیا ہے۔ شہر یار حبیب کا کہنا تھا کہ متاثرہ مقام کو سیل کردیا گیا ہے، ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ درج ہوگا، عمارت کے مالک اور دیگر ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مخدوش عمارتوں عمارتوں کی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔