بغدادی میں عمارت گرنے کے واقعے کے ذمہ دارمستعفی ہوں، نبیل گبول کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لیاری میں عمارت گرنے کے مقام کے دورے کے دوران لیاری سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بدعنوان ادارہ ہے، ڈی جی ایس بی سی اے اُن کا فون تک نہیں اٹھاتے۔ اسلام ٹائمز۔ لیاری سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے بغدادی میں عمارت گرنے کے واقعے کے ذمہ داروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ عمارت گرنے کے مقام کے دورے کے دوران نبیل گبول کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) بدعنوان ادارہ ہے، ڈی جی ایس بی سی اے اُن کا فون تک نہیں اٹھاتے۔ انہوں نے کہا کہ کیا سعید غنی سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کریں۔؟ کہا جاتا ہے ایس بی سی اے کا ڈی جی ڈان ہے، اس کو کچھ کہیں گے تو اوپر سے فون آجائے گا۔
راہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ جب سے ایم این اے بنا ہوں کئی عمارتیں گروائیں، 3 ماہ بعد دوبارہ تعمیر ہوجاتی ہیں، دو چار افسران کو میں نے ٹرانسفر بھی کرایا، وہ بلڈر سے پیسے لیتے ہیں۔ نبیل گبول نے مزید کہا کہ لوگ غیر قانونی تعمیرات کی طرف کیوں جاتے ہیں، لوگوں کو شعور دینا ہے، 122 عمارتوں کے خلاف کیسے آپریشن کریں گے، لوگوں کو گھروں سے نکالنا مذاق نہیں، بہت بڑا آپریشن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمارت گرنے کے ایس بی سی اے نبیل گبول
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔