فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی، پنجاب اسمبلی نے تہنیتی قرار داد منظور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پنجاب اسمبلی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی پر قرارداد منظور کر لی۔
پنجاب اسمبلی کے ایوان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی پر اعتماد اور خراج تحسین پیش کرنے کی قرار داد منظور کی۔
مزید پڑھیں: طالبان پاکستان مخالف فتنۂ خوارج کا ساتھ چھوڑیں یا پھر اپنے انجام کے لیے تیار رہیں، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر
قرارداد ارکان اسمبلی شعیب صدیقی، شوکت عزیز بھٹی، طاہر جمیل، احسن رضا خان، ذوالفقار علی شاہ اور رانا احمد شہریار خان نے مشترکہ طور پر جمع کرائی تھی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس عہدے پر تعیناتی نے پاکستان کے وقار کو بین الاقوامی سطح پر مزید بڑھایا ہے اور ملک کی عسکری تاریخ میں ایک نیا اور سنہری باب رقم کیا ہے۔
’اس سے بھارت سمیت تمام دشمنوں کے اوسان خطا ہو چکے ہیں اور یہ قومی سرحدوں کو مزید محفوظ اور ناقابل تسخیر بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔‘
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت دفاعی نظام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور قوم کو اس قیادت پر مکمل بھروسہ ہے۔
’پاک فوج کی ملک میں معاشی استحکام اور سلامتی کے لیے خدمات کو بھی سراہا گیا، اور واضح کیا گیا کہ دفاعی مضبوطی اور داخلی امن ہی معاشی و معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں۔‘
ایوان نے یہ بھی زور دیا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں قومی سلامتی کے ادارے اور سول حکومت ایک صفحے پر ہیں اور پنجاب اسمبلی اس قیادت پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کی حیثیت سے گارڈ آف آنر پیش
قرارداد میں چیف آف ڈیفنس فورسز کی کامیاب مدت ملازمت کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ایوان سی ڈی ایف کی قیادت میں بھرپور کامیابیوں کے لیے دعاگو ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پنجاب اسمبلی چیف آف ڈیفنس فورسز خراج تحسین فیلڈ مارشل قرار داد منظور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل وی نیوز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز پنجاب اسمبلی کے لیے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔