Daily Ausaf:
2026-07-24@07:21:38 GMT

کیا پی ٹی آئی بکھر جائے گی ؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

تحریک انصاف پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا نام ہے جو دو دہائیوں کی سیاسی جدو جہد ، ایک کرکٹ کے ہیرو کی طلسماتی قیادت ، تبدیلی اور سستے انصاف کے نعرے پر وجود میں آئی ۔تاہم 9 مئی 2023 ء کے واقعات اور ان کے بعد کے سیاسی حالات کے حوالے سے ریاستی ردعمل نے اس جماعت کی یکجہتی ،بقا اور سیاسی مستقبل پر متعدد سوالات کھڑے کر دیئے ۔تب سے اب تک واقفان سیاست کے اذہان میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ ’’کیا پی ٹی آئی بکھر پائے گی ؟‘‘
پی ٹی آئی کا نظریاتی اثاثہ اورسیاسی بیانیہ فقط بد عنوانی کی سیاست، اسٹیٹس کو ‘ کو ریزہ ریزہ کرنے اور ادارہ جاتی شفافیت کا قیام تھا ۔عمران خان کی شخصیت اس بیانیئے کا مرکز و محور تھی۔مگر جب ریاستی اداروں کا اس پر سے اعتماد اٹھ گیا اور مقتدرہ نے اس کی پیٹھ پر سے ہاتھ اٹھا لیااور اس پر قومی املاک پر حملوں کا الزام عائد ہوا تو وہی قوتیں جو اس کے سیاسی عروج میں ممد تھیں اس کے زوال کے اسباب کا پیش خیمہ بن گئیں ۔پاکستان میں نظریاتی جماعتیں شخصیات کے کرشماتی تاثر کی اسیر رہی ہیں ۔پی ٹی آئی کے حوالے سے یہ تاثر اور رجحان اور بھی زیادہ نمایاں رہا۔
عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کا سیاسی وجود محض ایک ’’ برینڈ نیم‘‘ کے سوا کچھ نہ تھا۔9 مئی کے بعد پارٹی کے اندر تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے انحرافات پیدا ہو گئے ،قیادت کے اندر پھوٹ پڑگئی۔صف اول کے رہنما قید و بند کی صعوبتوں کا شکار ہوئے ،ان میں سے کئی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے ،کچھ نے نئے سیاسی دھڑے بنا لئے (استحکام پاکستان پارٹی) وغیرہ اور بعض نے خاموشی اوڑھ لی‘پارٹی تنظیم کا شیرازہ بکھر گیا۔
آج 2024ء اور 2025 ء کی سیاسی صورت حال میں پی ٹی آئی کے لئے میڈیا کھلی سپورٹ سے عاجز ہے ،الیکشن کمیشن کا رویہ بھی جارحانہ ہے ان سب پر مستزاد پارٹی کی اندرونی سازشوں نے پارٹی کی بقا کو سوالیہ نشان بنایا ہوا ہے۔بانی پارٹی پر درجنوں مقدمات چل رہے ہیں جن میں سے متعددمیں سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں ۔قانونی شکنجے نے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو عملًا محدود رکھاہوا ہے اور اندیشہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو نااہل قرار دے دیا گیا ،یا ان پر سیاست سے مستقل دست برداری نافذ کر دی گئی تو پارٹی اپنی اصل روح سے محروم ہوجائے گی۔
اس حقیقت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ پی ٹی آئی آج بھی ایک بڑی عوامی حمایت کی حامل ہے ،خصوصاً نوجوانوں، مستورات ،شہری طبقات اور سوشل میڈیا صارفین میں بہت گہری جڑیں رکھتی ہے ۔2024-25 ء کے تمام سروے میں واشگاف الفاظ میں اس امر کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ ’’ عمران خان اب بھی مقبول ترین عوامی لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں‘‘ ۔اور یہی عوامی طاقت ہی ہے جس نے پی ٹی آئی کو مکمل طور پر بکھر جانے سے بچایا ہوا ہے ۔
مستقبل کے متوقع امکانات کا جائزہ لیا جائے تو تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ۔اول عدالتوں کے ذریعے بحالی کا راستہ ہموار ہوجائے ۔بانی پارٹی کسی سیاسی مفاہمت کے ذریعے باہر آئیں اور پارٹی کے شیرازے کو پھر سے سمیٹ لیں۔دوم ۔پارٹی متعدد دھڑوں میں تقسیم ہوجائے’’ نئی اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی ‘‘ نظریاتی گروپ ٹھہرے اورسوئم ۔یہ کہ پارٹی کو قانونی طور پر کا لعدم قرار دے دیا جائے(کسی امکانی صورت حال کے پیش نظر اور کارکن کسی اور پرچم تلے یک جا ہو جائیں) جس کا امکان کم ہے ۔9 مئی کے واقعے کے بعد تنظیمی اعتبار سے پی ٹی آئی منتشر ہوچکی ہے ۔فواد چوہدری، اسد عمر،علیم خان اورجہانگیر ترین تو راستے تبدیل کر چکے۔ان میں سے کچھ نے مصلحت اوڑھ لی ہے تو کوئی خود ساختہ جلاوطنی کے وبال سے دوچار ہے اور شاہ محمود قریشی جیسا معتدل مزاج سیاستدان اپنے پورے خاندان سمیت پارٹی قیادت کے ساتھ حکومت کے غیر اخلاقی ہتھکنڈوں کی زد میں ہے۔
ماضی پر نگاہ دوڑائیں تو 1971 ء کے بعد مسلم لیگ مشرقی پاکستان میں ریزہ ریزہ ہوکر دفن ہوگئی،اور پیپلز پارٹی 2008 ء کے بعد کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی،ایسے میں پی ٹی آئی کا بکھرائو یا ریزگی خارج از امکان یا انہونی بات نہیں ہوگی۔قانونی دبائو کا عالم یہ ہے کہ پارٹی کو یکے بعد دیگرے بہت سارے مقدمات کا سامنا ہے ۔سائفر کیس،توشہ خانہ ،غیر قانونی نکاح اور ریاستی راز افشا کر نے جیسے الزامات نے نہ صرف کپتان کو بلکہ پوری پارٹی کی نقل وحرکت کو محدود اور دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہوا ہے۔
سیاسی موئرخ عارف وقار لکھتے ہیں ’’قانونی گرفت ،سیاسی طور پر موثر ہونے کا یہی مہذب راستہ ہے ،پاکستان میں طاقت کا کھیل عدالتوں کے پردے میں کھیلا جاتا رہا ہے‘‘۔ جون 2024 ء کے گیلپ سروے ،آئی آر آئی اور پلس کنسلٹنٹ کی رپورٹس گواہیاں دے رہی ہیں کہ ’’بانی پی ٹی آئی کانام عوامی حافظے سے مٹانا آسان نہیں ہے‘‘۔روایتی میڈیا کا بلیک آئوٹ سوشل میڈیا نے بے اثر کردیا ہے اور ورچوئل مزاحمت نے اس امرپر مہر تصدیق کردی ہے کہ نسل نو کا پلیٹ فارم پارٹی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔نامور امریکی دانشور اور سیاسی تجزیہ نگار نوم چومسکی کا قول ہے کہ ’’ جب طاقتور میڈیا چپ سادھ لے تو عوام سوشل میڈیا کو ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں ‘‘۔سیاسی مفاہمت کا راستہ عمران کے ریلیف کا آخری راستہ ہے جس سے اس کی تحریک پھر سے زور پکڑ سکتی ہے ،بحال ہوسکتی ہے ۔
بصورت دیگر پارٹی اسٹیبلشمنٹ دوست ،وفادار اور نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہو جائے گی۔بہر حال اگر بانی پی ٹی آئی کو سیاست سے مستقل الگ کردیا جاتا ہے ،تب بھی وہ ایک نئی سیاسی قوت کے علامتی مرکز بن سکتے ہیں مطلب یہ کہ پی ٹی آئی بکھر سکتی ہے مگر بانی کے اثر سے جدا نہیں ہو سکتی ،پارٹی کانام ، تنظیم اور عہدے سب کے سب وقتی ہوسکتے ہیں مگر ’’جذباتی بیانیہ‘‘ جو عام پاکستانی کے دل و دماغ میں پیوست ہوچکا ہے اس کا زائل

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کا پارٹی کی ہوا ہے کے بعد

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی