نوازشریف کوتو ان کی فیملی نہیں پوچھتی، عمران سے ملاقات نہیں ہوسکتی، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (آن لائن) بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی عمران خان کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکتی، انہیں تو ان کی فیملی نہیں پوچھتی۔کچہری میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا کام بانی کا پیغام درست انداز میں باہر دینا ہے‘ چور حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی فیلڈ مارشل سے بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین نے کہا کہ 10 محرم بعد تحریک شروع ہوگی، حقوق آزادی کے لیے نکلیں گے۔ بانی چیئرمین کو چھوٹے سے چکی نما کمرے میں رکھا گیا ہے جب کہ نواز شریف کی جیل میں ایک ایک سو بندوں کی ملاقاتیں کرائی جاتی تھیں‘ نواز شریف جیل نہیں ریسٹ ہاؤس میں رہ رہے تھے۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی قید عام آدمی سے بھی سخت ہے‘ ان کی کتابیں بھی بند کر دی گئی ہیں‘ بانی چیئرمین کی قید کا مقابلہ نواز شریف کی جیل سے نہیں کیا جاسکتا‘ نواز شریف کو تو اس کی پارٹی لفٹ نہیں کرا رہی‘ نواز شریف سے بانی چیئرمین کی ملاقات نہیں ہوسکتی۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے مزید کہا کہ ہمارا فوکس انٹرسٹ رُول آف لا اور بانی چیئرمین کی رہائی ہے‘ پارٹی لیڈر شپ سے بات ہوئی ہے، اس نے تحریک کا پلان تیار کرلیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ہائی کمان کے پلان سے ہم مطمئن ہیں، جس کا قیادت خود اعلان کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین کے ذاتی معالجین کو 10 ماہ سے معائنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ قبل ازیں علیمہ خان اور عالیہ حمزہ کی عبوری ضمانت کے مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے علیمہ خان کی صادق آباد احتجاج کیس میں عبوری ضمانت میں 16 جولائی تک توسیع کردی جب کہ عالیہ حمزہ، سیمابیہ طاہر کی 26 نومبر احتجاج کیسز میں عبوری ضمانت میں 16 جولائی تک توسیع کردی گئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے مقدمات کی سماعت کی اور آئندہ تاریخ پر فریقین وکلا کو دلائل پیش کرنے کا حکم دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی چیئرمین علیمہ خان نواز شریف نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔