Jang News:
2026-07-23@23:52:39 GMT

ڈی جی ایس بی سی اے کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے: سعید غنی

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

ڈی جی ایس بی سی اے کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے: سعید غنی

’جیو نیوز‘ گریب

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ 2022ء میں بھی موجودہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایس بی سی اے تعینات تھے، انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

کراچی میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ فی الوقت ایس بی سی اے کے ان افسران کو معطل کیا ہے جو اس وقت علاقے میں تعینات ہیں، 2022ء میں عمارت کو مخدوش قرار دیے جانے کے وقت جو افسران تعینات تھے ان کا تعین کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ 51 انتہائی خطرناک عمارتوں کا سروے مکمل کریں، اگر ڈی جی ایس بی سی اے کی غفلت ثابت ہوئی تو ان کیخلاف بھی ایف آئی آر درج ہو گی، 2022ء میں بھی موجودہ ڈی جی ایس بی سی اے تعینات تھے، انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

کل سے لیاری کی تمام مخدوش عمارتوں کیخلاف آپریشن ہو گا: اسسٹنٹ کمشنر لیاری

شہریار حبیب نے کہا کہ تمام مخدوش عمارتوں کے رہائشیوں کو منتقل کرنے کیلئے حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ51 انتہائی خستہ حال عمارتوں سے متعلق بھی کمیٹی تفصیل حاصل کرے گی، کمشنر کو ذمے داری دی گئی ہے کہ 588 خطرناک عمارتوں کو تفصیل فراہم کریں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسر کو حادثے کے دن ہی معطل کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لیاری عمارت حادثے میں کسی سرکاری افسر کی کوتاہی سامنے آئی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ لیاری عمارت حادثے کی کی تحقیقات کرنے والی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ 2 دن میں آئے گی، عوام فلیٹ یا پلاٹ بُک کراتے وقت ضرور چیک کریں کہ منصوبے کو منظوریاں حاصل ہیں یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ایس بی سی اے نے کہا کہ دیا گیا

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن