سردار فہیم قتل کیس کے ملزمان کو اسلام آباد پولیس نے کیسے گرفتار کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
معاشی و دفاعی تجزیہ کار سردار فہیم قتل کیس کے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، سردار فہیم کو بدھ کے روز اسلام آباد کے سیکٹر جی۔6/4 کے علاقے کورڈ مارکیٹ کے قریب ان کی رہائش گاہ پر قتل کردیا گیا تھا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پچھلے چند مہینوں میں کچھ واقعات تشویش کا باعث بنے، ان میں ایک کیس حالیہ دنوں میں سردار فہیم کا قتل بھی شامل ہے، یہ اندھا قتل تھا جس سے لوگ بہت پریشان ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکسلا، غیرت کے نام پر بہن کو قتل کرنے والا ملزم ساتھی سمیت گرفتار
طلال چوہدری نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً اسلام آباد پولیس نے جس پروفیشنل طریقے سے ان تمام بلائنڈ مرڈرز کو ٹریس کیا ہے، اس پر وہ شاباش کے مستحق ہیں، سردار فہیم کا قتل بھی ایک اندھا قتل تھا، جس میں ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے سی سی ٹی وی سے لے کر سائنٹیفک فارنزک بھی فیل یا ناکافی ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پھر ہیومین انٹیلیجنس اور پولیس تحقیقات کے روایتی طریقوں کا بہترین استعمال کیا گیا، سردار فہیم کے قاتل گرفتار کرلیے گئے، ملزمان کی گرفتاری میں ڈی آئی جی جواد، ایس ایس پی انویسٹیگیشن عثمان، آپریشنل شعیب اور ڈی ایس پی سی آئی اے سلمان اور ان کی ٹیم نے قائدانہ کردار ادا کیا۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ سردار فہیم کے قتل کا واقعہ ہو، اسلامک یونیورسٹی کی 22 سالہ طالبہ ایمان کے قتل کا واقعہ ہو، 17 سالہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ثنا یوسف کا قتل ہو یا غیر ملکی خاتون کا ریپ کیس ہو، 3 سالہ محمد ازلان کا اغوا، 2 خواتین کا تھانہ لوئی بھیر کی حدود میں قتل، حمزہ خان قتل کیس اور اسی طرح اشتیاق احمد عباسی قتل کیس، یہ سارے کے سارے اندھے قتل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کا اعترافی بیان سامنے آگیا
’ان بلائنڈ مرڈرز کو جس طرح پروفیشنلی ٹریس کیا گیا، کئی واقعات کے ملزمان کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں پکڑا گیا، بلکہ ثنا یوسف کا قاتل اسلام آباد سے سینکڑوں کلومیٹر دور تحصیل جڑانوالہ سے پکڑا گیا، ان تمام کیسز میں اسلام آباد کی پولیس کا کردار اہم رہا جس پر اسلام آباد کی پولیس خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔‘
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ سردار فہیم کا قتل ہمارے لیے ایک بہت بڑا ٹیسٹ کیس تھا، یہ اسلام آباد پولیس کی پیشہ ورانہ اہلیت اور تحقیقاتی تکنیک کا بھی ٹیسٹ تھا، 25 جون کو سردار فہیم کو ان کے گھر میں قتل کیا گیا، انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا، ان کے گھر میں جس طریقے سے سامان بکھرا پڑا تھا، ہمارا پہلا امتحان یہ تھا کہ ہم کسی بھی طریقے سے کرائم سین کو محفوظ بنائیں تاکہ ہمیں مزید تحقیقات میں مسئلہ نہ ہو۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ہمیں نظر آرہا تھا کہ یہ ایک مشکل کیس ہے، کیا یہ قتل ہے، کیا یہ ڈکیتی اور قتل ہے یا یہ گھر میں چوری کی کوشش میں قتل ہے یا کچھ اور ہے، اس طرح کے بہت سے سوال تھے جن کے مطابق ہم نے تحقیقات کیں۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ کا گرلز ہاسٹل میں قتل
انہوں نے بتایا کہ ہم نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں بنائیں، ڈی آئی جی جواد اس تحقیقاتی عمل کی سربراہی کر رہے تھے، ایس ایس پی انویسٹیگیشن 6 ٹیموں کو جبکہ ایس ایس پی آپریشن 5 ٹیموں کو لیڈ کر رہے تھے، ان ٹیموں کو مختلف ٹاسک دیے گئے تھے، سب سے پہلے مشکوک اشخاص سے تفتیش کی گئی۔
’جہاں قتل ہوا، وہاں اردگرد چیک کیا گیا کہ وہاں کوئی زیر تعمیر گھر تو نہیں، وہاں کوئی مزدور تو نہیں کام کر رہے، اردگرد کوئی ایسے ملازم تو نہیں ٹھہرے جن کا کوئی کریمنل ریکارڈ ہو، ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے ہم نے اپنی تفتیش آگے بڑھائی، یہ ایک مشکل کیس تھا، جس کے ملزمان کو ہم نے 6 دنوں میں ٹریس کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 4 ٹیموں میں ایسے تفتیشی ڈالے تھے جو تفتیش کے لحاظ سے سیانے اور ماہر مانے جاتے ہیں، 57 مشکوک لوگوں سے تفتیش کی گئی، جیلوں سے بھی مشکوک افراد کی معلومات لی گئیں، اڈیالہ، کوٹ لکھپت اور کیمپ جیل سے معلومات لی گئیں، مجموعی طور پر 200 سے زائد افراد کے انٹرویوز کیے گئے، اس کے علاوہ 271 کیمروں کی فوٹیج چیک کی گئی، 29 جگہوں پر جیو فینسنگ کروائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان سے اغوا ہونے والے 2 کشمیری شہری 3 ماہ بعد گھر پہنچ گئے
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ 4100 کالز کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، پھر ہمیں اس کیس میں ایک کریڈیبل لیڈ ملی، پھر ہم نے اس کی روشنی میں 9 چھاپے مارے، گوجرانوالہ، سرگودھا اور چنیوٹ میں چھاپے مار کر 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا، ایک ملزم ریکارڈ یافتہ مجرم ہے جس پر 25 سے زیادہ ڈکیتیوں، رہزنی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات درج ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم پہلے 2 دفعہ جیل جا چکا ہے، ریکی کی گئی کہ کون سا ایسا گھر ہے جہاں کم سرگرمیاں ہیں، دونوں ملزمان ڈکیتی کی نیت سے سردار فہیم کے گھر داخل ہوئے، سردار فہیم اپنے کمرے میں تھے جنہوں نے مزاحمت کی، جس پر ڈکیتوں نے سردار فہیم کو راڈ سے مارا، ملزمان نے سردار فہیم کو باندھ دیا اور ان پر راڈ سے تشدد کرکے پوچھتے رہے کہ کہاں کہاں قیمتی چیزیں پڑی ہیں، پھر ملزمان نے وہاں سے قیمتی چیزیں اٹھائیں اور وہاں سے چلے گئے۔
’ملزمان کی گرفتاری کے بعد ہمارا اصل امتحان شروع ہوتا ہے کہ کس طریقے سے تفتیش کی جائے کہ ملزمان سزا سے نہ بچ سکیں، یہ کیس جس طریقے سے ٹریس کیا گیا اس پر اسلام آباد پولیس مبارکباد کی مستحق ہے، اسلام آباد پولیس ہر چیلنج سے نمٹنے کو بھی تیار ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی جی اسلام آباد اسلام اباد فہیم سردار قتل کیس ملزمان گرفتار وزیرمملکت داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی جی اسلام ا باد اسلام اباد ملزمان گرفتار وزیرمملکت داخلہ سردار فہیم کو کے ملزمان کو آئی جی اسلام یہ بھی پڑھیں اسلام ا باد اسلام آباد باد پولیس نے کہا کہ ٹریس کیا سے تفتیش کیا گیا میں قتل قتل کیس کی گئی ایس پی کا قتل
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)