امریکا نے اسرائیل کو 51 کروڑ ڈالر مالیت کی بم گائیڈنس کٹس فروخت کرنے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
امریکا نے اسرائیل کو 51 کروڑ ڈالر مالیت کی ہتھیاروں کی گائیڈنس کٹس اور متعلقہ تکنیکی معاونت فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آرٹی ورلڈ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے اس مجوزہ فروخت کا اعلان کیا ہے۔
ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) کے بیان کے مطابق اس ممکنہ فروخت میں 3 ہزار845 عدد ’کے ایم یو-558 بی/بی‘ جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک مونیشن (جے ڈی اے ایم) گائیڈنس کٹس شامل ہیں، جو ’بی ایل یو-109‘ بنکر بسٹر بموں کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں، جبکہ 3 ہزار 280 عدد ’کے ایم یو-572 ایف/بی‘ جے ڈی اے ایم کٹس ’ایم کے 82‘ بموں کے لیے فراہم کی جائیں گی، اس کے علاوہ متعلقہ انجینئرنگ، لاجسٹکس اور تکنیکی معاونت بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فروخت اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گی تاکہ وہ اپنی سرحدوں، اہم انفرااسٹرکچر اور شہری آبادیوں کو درپیش خطرات سے مؤثر طور پر نمٹ سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکا کے قومی مفاد میں ہے اور اس کا مقصد اسرائیل کو ایک مضبوط اور تیار دفاعی نظام فراہم کرنا ہے۔
ڈی ایس سی اے کے مطابق اس فروخت سے مشرقِ وسطیٰ کے فوجی توازن میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی اور اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکا کو اپنے کسی اضافی سرکاری یا نجی نمائندے کو اسرائیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کو بم گائیڈنس کٹس سمیت دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کا ٹھیکا امریکی کمپنی بوئنگ کو دیا گیا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیل کو کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔