امریکا نے اسرائیل کو 51 کروڑ ڈالر کے خطرناک بموں کی کٹس فروخت کردیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
امریکا نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد اسرائیل کو 510 ملین ڈالر (51 کروڑ ڈالر) مالیت کے بم گائیڈنس کٹس اور دیگر متعلقہ سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے سیکیورٹی تعاون ادارے (DSCA) کے مطابق، "یہ ممکنہ فروخت اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی، اور اس کے سرحدی علاقوں، اہم انفرا اسٹرکچر اور شہری مراکز کے دفاع کو مضبوط کرے گی۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ "امریکا اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے، اور یہ امریکی قومی مفادات کے لیے بھی اہم ہے کہ اسرائیل کو ایک طاقتور اور تیار دفاعی نظام فراہم کیا جائے۔"
امریکی محکمہ خارجہ نے اس فروخت کی منظوری دے دی ہے اور اب یہ معاملہ کانگریس کو بھیجا گیا ہے جو حتمی منظوری دے گی۔
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات، سائنسدانوں اور اعلیٰ فوجی حکام کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑا فضائی حملہ کیا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کی گئی تھی، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران کے ساتھ نئے معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں کیں، لیکن بالآخر انہوں نے ایرانی جوہری سائٹس پر حملوں کا حکم دے دیا۔
حال ہی میں جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے، مگر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو دوبارہ جوہری تنصیبات بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، جس سے مستقبل میں ایک اور تنازع کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔