امریکا نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد اسرائیل کو 510 ملین ڈالر (51 کروڑ ڈالر) مالیت کے بم گائیڈنس کٹس اور دیگر متعلقہ سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے سیکیورٹی تعاون ادارے (DSCA) کے مطابق، "یہ ممکنہ فروخت اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی، اور اس کے سرحدی علاقوں، اہم انفرا اسٹرکچر اور شہری مراکز کے دفاع کو مضبوط کرے گی۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ "امریکا اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے، اور یہ امریکی قومی مفادات کے لیے بھی اہم ہے کہ اسرائیل کو ایک طاقتور اور تیار دفاعی نظام فراہم کیا جائے۔"

امریکی محکمہ خارجہ نے اس فروخت کی منظوری دے دی ہے اور اب یہ معاملہ کانگریس کو بھیجا گیا ہے جو حتمی منظوری دے گی۔

یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات، سائنسدانوں اور اعلیٰ فوجی حکام کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑا فضائی حملہ کیا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کی گئی تھی، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران کے ساتھ نئے معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں کیں، لیکن بالآخر انہوں نے ایرانی جوہری سائٹس پر حملوں کا حکم دے دیا۔

حال ہی میں جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے، مگر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو دوبارہ جوہری تنصیبات بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، جس سے مستقبل میں ایک اور تنازع کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران کے کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان